بھارت نے دریائے چناب میں ایک اور خطرناک موج چھوڑ دی، اور یوں پہلے ہی بھپرے ہوئے پانی کے ریلے نے ملتان ڈویژن کی زمین کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ چناب کی گرجدار لہریں جب سرحدوں کو چیرتی ہوئی آگے بڑھیں تو ہر طرف تباہی کا ایک نیا باب رقم ہونے لگا۔ وزارتِ آبی وسائل نے خبردار کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے اخنور کے مقام پر چھوڑے گئے پانی نے ہیڈ مرالہ پر دباؤ بڑھا دیا ہے، اور یہ دباؤ گجرات و وزیرآباد کے گردونواح کے دیہات کو کسی بھی لمحے ڈبو سکتا ہے۔ دریائے راوی کے ہیڈ سندھنائی پر بھی پانی کا غیر معمولی طوفانی دباؤ دیکھ کر ضلعی انتظامیہ نے تاریخ ساز فیصلہ کیا۔ مائی صفورہ بند کو بموں سے اڑا کر پانی کو رخِ دیگر دیا گیا تاکہ بڑے پیمانے پر تباہی کو روکا جا سکے۔ اس دلخراش اقدام کے ساتھ ہی ہزاروں ایکڑ زرعی زمین پانی کے حوالے ہو گئی، مگر قریبی آبادیوں کو بڑے المیے سے بچا لیا گیا۔ چناب کا قہراب ریلہ جب ملتان ڈویژن میں داخل ہوا تو درجنوں بستیوں کو نگل گیا۔ حفاظتی فلڈ بند آخری حد تک دباؤ سہنے لگے۔ اکبر فلڈ بند پر پانی کی سطح میں تین سے چار فٹ تک اضافہ ہوا، جس نے مکانات کو توڑ ڈالا اور مکینوں کو مجبور کیا کہ وہ اپنے گھروں کو آنکھوں کے سامنے ڈوبتے دیکھ کر ہجرت کریں۔ ہیڈ محمد والا روڈ بند کر دی گئی، اور بارودی مواد نصب کر کے پانی کو مخصوص سمت دینے کی تیاری کی جا رہی ہے تاکہ ملتان شہر کی بقا ممکن بنائی جا سکے۔ اس وقت سیلاب اپنی پوری شدت کے ساتھ دیہی علاقوں کو لپیٹ میں لے رہا ہے، کھیت، کھلیان اور بستیاں پانی میں ڈوبتی جا رہی ہیں، اور کسانوں کی محنت کا سالوں کا سرمایہ لمحوں میں بہہ رہا ہے۔ بند بوسن اور ملحقہ علاقوں میں تو گویا قیامت کا منظر ہے۔ 138 مواضعات پانی کے نیچے جا چکے ہیں۔ مکانات زمین بوس ہو رہے ہیں، کھڑی فصلیں صفحۂ ہستی سے مٹ چکی ہیں۔ مکئی، تلی، اروی اور باغات سیلابی ریلا نگل گیا۔ ہر طرف چیخ و پکار ہے اور لوگ اپنی مدد آپ کے تحت اونچی جگہوں پر پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ جھوک عاربی کا سرکاری اسکول بھی سیلابی موجوں کا شکار ہوا، جہاں تعلیمی دیواریں پانی کے تیز دھارے کے سامنے ڈگمگا رہی ہیں۔ انتظامیہ نے فوری ہنگامی الرٹ جاری کرتے ہوئے متاثرہ عوام کو خیمہ بستیوں کی جانب منتقل کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ ریسکیو 1122 اور پاک فوج کے جوان ایک عزم و ہمت کی تصویر بنے ہوئے ہیں، کشتیاں اور رافٹس لے کر سینکڑوں زندگیاں محفوظ مقام تک پہنچا رہے ہیں۔ ہر آنکھ میں خوف ہے مگر ہر دل میں امید کی لو ابھی زندہ ہے۔ ۔







Discussion about this post