دریائے چناب کے بے قابو پانی نے ہیڈ محمدوالا اور شیر شاہ پل پر مسلسل بلند ہوتی سطح کے ساتھ ملتان اور مظفرگڑھ کے شہری مراکز کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ چونکہ انتہائی بلند سیلابی سطح 36 گھنٹے گزرنے کے باوجود کم نہیں ہوئی، اس لیے صورتحال لمحہ بہ لمحہ تشویشناک ہوتی جارہی ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے دریائے ستلج میں بڑھتے پانی کے پیشِ نظر قصور، اوکاڑہ، پاکپتن، بوریوالہ، عارفوالہ اور بہاولنگر کے لیے ’’اونچے درجے کے سیلاب‘‘ کی وارننگ جاری کردی ہے۔ ملتان کے ڈپٹی کمشنر وسیم حمید سندھو نے بتایا کہ دریائے چناب کا بے رحم ریلا اکبر فلڈ بند اور شیر شاہ پل تک جا پہنچا ہے، جس کے باعث کئی دیہات زیرِ آب آچکے ہیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ دریائے راوی اور چناب کا پانی اگر آپس میں مل گیا تو تباہی مزید سنگین ہوسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گریوالہ چوک پر پانی کی سطح 414 فٹ سے تجاوز کرچکی ہے اور مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اگر یہ سطح 417 فٹ پار کر گئی تو ہیڈ محمدوالا پر بند توڑنے کا فیصلہ کرنا پڑے گا۔ اب تک ضلع بھر سے 4 لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاچکا ہے۔ ملتان کے کمشنر عامر کریم خان نے تصدیق کی کہ ہیڈ محمدوالا پر پانی 413.66 فٹ ریکارڈ ہوا ہے، جو صرف چند فٹ دور ہے اس خطرناک حد سے جسے 417 فٹ پر مقرر کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق بند توڑنے یا برقرار رکھنے کا فیصلہ بہاؤ کی شدت اور رفتار کو مدِنظر رکھ کر ہی کیا جائے گا۔ تاہم سابق ماہرینِ انہار نے انکشاف کیا کہ 417 فٹ کو ’’خطرناک سطح‘‘ قرار دینا دراصل ایک غیر فنی اور غلط فیصلہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 1992 کے سیلاب کو بنیاد بنا کر یہ حد مقرر کی گئی تھی، جب اس مقام پر پل موجود نہیں تھا اور علاقہ ایک کھلا میدان تھا۔ پل کی تعمیر کے بعد اس سطح کا ازسرِنو جائزہ نہیں لیا گیا، جس نے آج کے حالات کو اور بھی خطرناک بنا دیا ہے۔

ماہرین نے متنبہ کیا کہ جیوَانہ بنگلہ سے ہیڈ محمدوالا تک علاقے پانی میں ڈوب رہے ہیں اور راوی کا پانی بھی سدھنائی ہیڈورکس پر رکا ہوا ہے۔ پی ڈی ایم اے کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق مرالہ ہیڈورکس پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 17 ہزار 369 کیوسک، خانکی پر 2 لاکھ 48 ہزار 840، قادرآباد پر 3 لاکھ 85 ہزار 228 اور چنیوٹ پل پر 5 لاکھ 54 ہزار 998 کیوسک ریکارڈ ہوا ہے۔ رواز پل پر سطحِ آب 520.50 فٹ تک جا پہنچی ہے، جو زیادہ سے زیادہ 526 فٹ کی حد سے ذرا نیچے ہے مگر تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ہیڈ محمدوالا پر سطح 414 فٹ تک پہنچ گئی ہے جبکہ زیادہ سے زیادہ حد 417.50 فٹ ہے، اور شیر شاہ پل پر 393.40 فٹ کی سطح ریکارڈ ہوئی، جو بمشکل 393.50 فٹ سے کم ہے۔ ادھر بھارتی ڈیموں سے بھی نیا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ پی ڈی ایم اے کے سربراہ عرفان علی کاٹھیا نے خبردار کیا کہ بھارتی ڈیموں میں پانی مسلسل بڑھ رہا ہے اور بھارت اب تک 7 انتباہی پیغامات بھیج چکا ہے، جن میں سے 3 صرف گزشتہ 24 گھنٹوں میں موصول ہوئے۔ اس پیش رفت کے نتیجے میں راوی، ستلج اور چناب کے حالات مزید بگڑ سکتے ہیں۔ پنجاب کے متاثرہ علاقوں سے اب تک 38 لاکھ سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاچکا ہے، جن میں ٹوبہ ٹیک سنگھ، پیر محل، کبیر والا اور خانیوال سے بڑے پیمانے پر انخلا شامل ہے۔ سیالکوٹ کے قریب پاک-بھارت سرحدی علاقے بجوات میں شدید طغیانی نے 85 دیہات کا زمینی رابطہ منقطع کردیا ہے۔

بارش اور سیلابی ریلے نے پل بہا دیا اور مقامی لوگ بجلی سے بھی محروم ہیں۔ اگرچہ انتظامیہ نے بیلی پل عارضی طور پر تعمیر کیا تھا لیکن تازہ طغیانی نے اس کی بنیادیں بھی بہا دیں۔ اسی دوران گلگت بلتستان کی دیورال وادی میں اچانک آنے والے سیلاب نے 20 سے زائد گھر اور زرعی زمینوں کو نقصان پہنچایا۔ اسسٹنٹ کمشنر وسیم عباس کے مطابق صبح کے وقت شدید بارش سے گمری کا علاقہ متاثر ہوا، جس میں پانچ گھر مکمل تباہ ہوگئے۔ تاہم بروقت اطلاع کے باعث درجنوں زندگیاں بچالی گئیں۔ محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ 6 سے 9 ستمبر کے دوران ملک بھر میں ایک اور شدید مون سون اسپیل متوقع ہے۔ پنجاب کے شہروں سیالکوٹ، ملتان اور خانیوال میں بارشیں ہوں گی، بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں 7 سے 9 ستمبر تک آندھی اور بارش کا امکان ہے۔ کشمیر میں 6 سے 8 ستمبر تک بارش ہوگی جبکہ خیبر پختونخوا کے کئی علاقوں میں بھی موسلادھار بارشیں متوقع ہیں۔







Discussion about this post