پاکستان اور جنوبی ایشیا کی میٹھے پانی کی سب سے بڑی جھیل منچھر اور وہاں آباد مچھیروں کی زندگی پر بنائی گئی دستاویزی فلم ’موکلانی: دی لاسٹ موہانس‘ نے عالمی اعزاز اپنے نام کر لیا۔پاکستانی فلم ساز جواد شریف کی اس فلم کو امریکا کے شہر جیکسن، وائیومنگ میں منعقدہ جیکسن وائلڈ میڈیا فیسٹیول میں چلایا گیا، جہاں اسے ’گلوبل وائسز‘ کیٹیگری میں جیکسن وائلڈ میڈیا ایوارڈ سے نوازا گیا۔یہ ایوارڈ فطرت اور ماحولیاتی کہانیوں کے لیے دنیا کے معتبر ترین اعزازات میں شمار ہوتا ہے اور اسے عموماً “فطرت کی فلموں کا آسکر” کہا جاتا ہے۔ ’موکلانی‘ نے دنیا بھر سے مقابلہ کرنے والی 500 سے زائد فلموں میں سے یہ ایوارڈ حاصل کیا۔ سندھی زبان میں بنائی گئی فلم میں منچھر جھیل کے مچھیروں جنہیں مقامی زبان میں مہانا کہا جاتا ہے کی زندگی، ان کی مشکلات، جھیل کی تباہی اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو اجاگر کیا گیا ہے۔فلم میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح جھیل کے آلودہ پانی اور ماحولیاتی تغیر نے ان کی روایتی طرزِ زندگی کو تباہ کر دیا ہے۔
’موکلانی‘ کا مطلب ہے “آخری ملاقات” یا “جدائی”، جو مچھیروں کی ثقافت کے زوال کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔فلم کی ٹیم میں ڈائریکٹر و پروڈیوسر جواد شریف، شریک پروڈیوسر سیدہ کشمالہ، ڈائریکٹر آف فوٹوگرافی آصف علی، رنگوں کی ترتیب کے ماہر مشتاق مشی، اور تحقیق و کہانی کی ترقی کے لیے ماریہ جاوید بدوی شامل ہیں۔موسیقی سیف سمیجو اور شمائلہ رحمت حسین نے تیار کی، جس میں شاہ لطیف اور شیخ ایاز کے اشعار شامل کیے گئے۔’موکلانی‘ کے مناظر، کردار اور منچھر جھیل میں ختم ہوتی زندگی کے رنگ دیکھ کر یہ احساس گہرا ہوتا ہے کہ وہاں کشتیوں پر آباد لوگ اب اپنی صدیوں پرانی پہچان کھو رہے ہیں۔








Discussion about this post