مس یونیورس 2025 کا رنگا رنگ مقابلہ جمعے کو تھائی لینڈ میں اس وقت اپنی انتہا کو پہنچا جب میکسیکو کی 25 سالہ فاطمہ بوش نے تمام ہنگاموں، الزامات اور رکاوٹوں کے باوجود حسینۂ عالم کا تاج اپنے نام کر لیا۔ فاطمہ بوش میکسیکو کی چوتھی خاتون ہیں جنہوں نے یہ اعزاز حاصل کیا، مگر ان کی کامیابی کا سفر سیدھا نہیں بلکہ ڈرامے، تنازعات اور غیر معمولی بہادری سے بھرپور تھا۔ فائنل سے چند روز قبل لائیو میٹنگ کے دوران تھائی میزبان نوات اتساراگریسل نے فاطمہ کو سوشل میڈیا پر تشہیری مواد نہ ڈالنے پر سرِعام سخت لہجہ اختیار کیا، یہاں تک کہ سکیورٹی کو بلایا گیا۔ اس توہین آمیز رویے کے خلاف فاطمہ بوش نے مس عراق کے ساتھ واک آؤٹ کیا۔ متعدد شرکا نے ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا، مگر نوات کی دھمکی کے بعد زیادہ تر اپنی نشستوں پر واپس بیٹھ گئیں۔ فاطمہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں کند ذہن کہہ کر نہ صرف ان کی توہین کی گئی بلکہ خواتین کی آواز دبانے کی کوشش بھی کی گئی۔ اس جرات مندانہ مؤقف پر میکسیکو کی صدر کلاڈیا شین بوم نے انہیں خواتین کے حقوق کی مضبوط مثال قرار دیا۔ بعد ازاں نوات نے معذرت بھی کی۔ مس یونیورس کا یہ ایونٹ متنازع واقعات سے بھرا ہوا تھا۔

فائنل سے قبل دو ججز نے استعفیٰ دے دیا، جن میں سے ایک فرانسیسی موسیقار عمر ہارفوچ نے الزام لگایا کہ ووٹنگ خفیہ اور غیر قانونی طریقے سے کی گئی، تاہم مس یونیورس آرگنائزیشن نے اس دعوے کو بے بنیاد قرار دیا۔ سابق فٹ بالر کلاڈ میکلیلے بھی ذاتی وجوہات کے باعث مقابلے سے الگ ہو گئے۔اس ہنگامہ خیز ماحول میں بدقسمت واقعات بھی سامنے آئے۔ ملبوسات کے راؤنڈ میں مس برطانیہ ڈینیئل لیٹیمر اسٹیج پر گر پڑیں، جبکہ ایوننگ گاؤن شو کے دوران مس جمیکا گیبریل ہنری اسٹیج سے نیچے گر کر زخمی ہو گئیں اور انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔ خوش قسمتی سے انہیں کوئی شدید چوٹ نہیں آئی اور وہ طبی نگرانی میں ہیں۔ اس عظیم مقابلے میں پاکستان کی نمائندگی روما ریاض نے کی، جو 120 سے زائد ممالک کی خوبصورت اور باصلاحیت خواتین کے ہمراہ اس عالمی مقابلے کا حصہ بنیں۔ تمام ہنگاموں کے باوجود، اس رات کا مرکز فاطمہ بوش ہی رہیں۔ وہ نہ صرف خوبصورتی بلکہ اعتماد، حوصلے اور مضبوط کردار کی علامت بن کر ابھریں۔ دنیا بھر کی نظریں اس لمحے پر جم گئیں جب انہوں نے مس یونیورس کا تاج پہنا اور یہ ثابت کر دیا کہ اصل حسن صرف چہرے کا نہیں بلکہ ہمت اور آواز کا بھی ہوتا ہے۔








Discussion about this post