ریاض کی سلطانی شان میں ایک تاریخی لمحہ رقم ہوا جب عرب اور اسلامی دنیا کے وزرائے خارجہ اکٹھے ہوئے، اور ان کی آواز نے پورے مشرق وسطیٰ کو جھنجھوڑ دیا۔ سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے اس اجلاس کے بعد جو پریس کانفرنس کی، وہ محض بیانات کا سلسلہ نہیں تھی، وہ ایک طوفانی اعلان تھا، جو خطے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہہ رہا تھا۔ انہوں نے کھل کر کہا کہ ریاض کی دو آئل ریفائنریز پر کیے گئے حملوں نے ایران کی ساکھ کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ یہ حملے کوئی معمولی واقعہ نہیں تھے۔ یہ سول تنصیبات پر براہ راست حملہ تھا، جو امن کے نام پر جنگ کا اعلان تھا۔ شہزادہ فیصل نے ایران کو آئینہ دکھاتے ہوئے فرمایا کہ غلط فہمیوں پر قائم یہ جارحیت نہ تو فائدہ دے گی اور نہ ہی استحکام لائے گی۔ ایران کو اب اپنے رویے پر نظرثانی کرنی چاہیے، پراکسی گروپوں کی حمایت ترک کرنی چاہیے، اور ہمسایوں کے ساتھ بھائی چارے کا راستہ اپنانا چاہیے ورنہ نتائج سنگین ہوں گے۔

ان کے الفاظ میں دھمکی نہیں، بلکہ ایک پختہ عزم تھا: سعودی عرب سیاسی دباؤ کو ترجیح دے گا، مگر اگر یہ راستہ ناکام ہوا تو فوجی کارروائی کا حق بھی مکمل طور پر محفوظ ہے۔ وقت آنے پر قیادت فیصلہ کرے گی، اور وہ فیصلہ خطے کی خودمختاری اور وقار کے تحفظ کے لیے ہوگا۔ بحری جہاز رانی کی آزادی، تیل کی تنصیبات کی حفاظت، اور خلیج کی سلامتی، یہ سب اب صرف سعودی عرب کا نہیں، بلکہ پوری اسلامی دنیا کا مشترکہ ایجنڈا بن چکا ہے۔ اجلاس کے مشترکہ اعلامیے نے ایران کو براہ راست چیلنج کیا۔ اس میں واضح الفاظ میں کہا گیا کہ خلیجی ممالک کے ہوائی اڈوں، تیل کی تنصیبات، سفارت خانوں اور عوامی مقامات پر حملے ناقابل قبول ہیں۔ اقوام متحدہ کے آرٹیکل 51 کے تحت خود دفاع کا حق خلیجی ریاستوں کو حاصل ہے، اور وہ اس حق کو استعمال کرنے سے دریغ نہیں کریں گی۔ ایران سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فوری طور پر جارحیت روکے، بین الاقوامی قوانین کا احترام کرے، آبنائے ہرمز کو محفوظ بنائے، عالمی تجارت میں خلل ڈالنا بند کرے، اور پراکسی جنگوں کو پھیلانے سے باز آئے۔ اس اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی اپنی آواز بلند کی۔ انہوں نے برادر ممالک کی علاقائی سالمیت، خودمختاری اور سیاسی آزادی کی پوری حمایت کا اعلان کیا اور تمام حملوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ ایک ایسی آواز جو پاکستان کے تاریخی موقف کی عکاسی کرتی تھی۔







Discussion about this post