پاکستان کے معروف یوٹیوبر سعد الرحمٰن المعروف ڈکی بھائی نے بالآخر اپنے خلاف لگنے والے سنگین الزامات کا اعتراف کرلیا۔ 16 اگست کو آن لائن بیٹنگ ایپس اور سٹے بازی کی تشہیر کے الزام میں گرفتار ہونے والے ڈکی بھائی کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے حوالے کیا گیا تھا۔ کئی روز کی خاموشی کے بعد انہوں نے پہلی بار عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کی، جس میں نہ صرف اپنے جرم کا اقرار کیا بلکہ پوری قوم سے معافی بھی طلب کی۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں ڈکی بھائی کو یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے:
"میں روسٹنگ کے دور سے ویڈیوز بناتا آرہا ہوں، اور اب مانتا ہوں کہ یہ عمل غیر اخلاقی تھا۔ اس پر میں پوری قوم سے شرمندگی کے ساتھ معافی مانگتا ہوں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ بیٹنگ ایپس کی تشہیر انہیں اس وقت کی گئی جب یہ ایپس پی ایس ایل میچز سمیت مختلف ٹی وی اسکرینز پر عام دکھائی دیتی تھیں۔
"میں نے بغیر تصدیق کے ان کی پروموشن کر ڈالی، یہ جانے بغیر کہ یہ قانونی ہیں یا نہیں۔ یہ میری بڑی غلطی تھی، اور اس پر بھی میں سب سے معافی چاہتا ہوں۔”
گیمبلنگ ایپ اسکینڈل میں بڑا انکشاف
تحقیقات کے دوران یہ حیران کن انکشاف بھی سامنے آیا کہ ڈکی بھائی ان ایپس کے کنٹری ہیڈ کے طور پر بھی کام کر رہے تھے۔لاہور کی عدالت نے شروع میں سعد الرحمٰن کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا، بعدازاں مزید چار دن کی توسیع بھی دی۔ 23 اگست کو ایف آئی اے نیشنل کرائم ایجنسی نے انہیں دوبارہ عدالت میں پیش کیا، جہاں مجسٹریٹ نے ان کا پانچ روزہ مزید جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا۔ ادھر اسی کیس میں ان کی اہلیہ عروب جتوئی بھی نامزد ہیں۔ تاہم لاہور کی سیشن عدالت نے انہیں 30 اگست تک عبوری ضمانت دیتے ہوئے گرفتاری سے روک دیا ہے۔







Discussion about this post