رمضان المبارک کا مقدس مہینہ جیسے ہی قریب آتا ہے، دبئی کی چمکتی ہوئی حکومت عوام کے لیے تحفظ کا ایک مضبوط ڈھال کھڑا کر دیتی ہے۔ اس بار پھر، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو غیر منصفانہ طور پر بڑھانے اور ہیرا پھیری کی کسی بھی کوشش کو سختی سے روکنے کا اعلان کر دیا گیا ہے، تاکہ روزہ داروں کے گھروں میں سکون اور خوشحالی برقرار رہے۔ کنزیومر پروٹیکشن اتھارٹیز نے رمضان سے پہلے ہی مارکیٹوں اور تجارتی مراکز کے دوروں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے، جہاں ہر کونے میں قیمتوں کی پوری نگرانی کی جا رہی ہے۔ چاول، دودھ، چینی، کوکنگ آئل، انڈے، دالیں، روٹی اور دیگر بنیادی اشیاء کی فہرست طے کر کے ان کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے کا عزم کیا گیا ہے، تاکہ کوئی تاجر لالچ میں آ کر عوام کا استحصال نہ کر سکے۔ حکام کا پیغام بالکل واضح اور پرجوش ہے: رمضان میں عوام کو ریلیف پہنچانا ہماری اولین ترجیح ہے۔ جو بھی مقررہ حدود سے تجاوز کرے گا، اسے فوری اور سخت کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

دکانداروں کو پہلے ہی تنبیہ کر دی گئی ہے کہ حکومتی طے شدہ نرخوں کی پابندی کریں، ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری سے مکمل پرہیز کریں، ورنہ جرمانہ ایک لاکھ درہم تک ہو سکتا ہے جو پاکستانی روپوں میں تقریباً ساڑھے سات لاکھ روپے بنتا ہے۔یہ صرف ایک اعلان نہیں، بلکہ ایک پختہ وعدہ ہے کہ پورے رمضان المبارک کے دوران منڈیوں میں شفافیت اور استحکام کو یقینی بنایا جائے گا۔ نگرانی کا یہ سلسلہ مسلسل جاری رہے گا، تاکہ ہر گھر میں افطار اور سحری کا سامان آرام سے اور مناسب قیمت پر دستیاب ہو۔







Discussion about this post