پنجاب نے فضائی خطرات کے خلاف ایک تاریخی اور ناقابلِ فراموش قدم اٹھا لیا ہے ۔ صوبے کے تمام اضلاع میں اینٹی ڈرون یونٹ قائم کرنے کا فیصلہ ہو گیا ہے، جو پاکستان کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا بڑا اقدام ہے! محکمہ داخلہ پنجاب کے ترجمان نے لاہور سے جاری بیان میں اعلان کیا کہ یہ یونٹس ہر ضلع کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) کی سربراہی میں کام کریں گے۔ جدید اسپیشل ڈرون فلیٹس کی مدد سے ضلعی سطح پر فضائی نگرانی کی جائے گی ۔ آسمان کی ہر حرکت پر نظر رکھی جائے گی، تاکہ کوئی بھی غیر مجاز یا شر پسند ڈرون سرگرمی نظر انداز نہ ہو سکے۔ اس کے ساتھ ہی ہر ضلع میں اینٹی ڈرون سسٹم بھی نصب کیا جائے گا، جو طاقتور جیمرز کی مدد سے دشمن ڈرونز، جاسوسی والے آلات اور شر پسند عناصر کے ڈرونز کو فوری طور پر ناکارہ بنا دے گا۔ یہ سسٹم نہ صرف روک تھام کرے گا بلکہ ممکنہ خطرات کو جنم لینے سے پہلے ہی کچل دے گا۔ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر پنجاب حکومت نے عوامی سطح پر آؤٹ ڈور ڈرون اڑانے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے ۔

یہ پابندی دفعہ 144 کے تحت نافذ العمل ہے اور پورے صوبے میں فوری طور پر لاگو و ہو چکی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انٹیلی جنس یونٹس اس پابندی سے مستثنیٰ ہیں، مگر عام شہریوں، تفریحی استعمال یا کمرشل ڈرون فلائٹس پر سخت پابندی ہے۔ یہ فیصلہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی قیادت میں پراونشل انٹیلی جنس فیوژن اینڈ تھریٹ اسیسمنٹ سنٹر (پیف ٹیک) کی بریفنگ کے بعد کیا گیا جہاں امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لانے کا عزم کیا گیا۔ پنجاب اب نہ صرف زمین پر بلکہ آسمان پر بھی ناقابلِ تسخیر بن رہا ہے۔ یہ صرف ایک یونٹ نہیں ، یہ ایک نئی حفاظتی دیوار ہے جو عوام کے جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنائے گی، دہشت گردی کے نئے طریقوں کو ناکام بنائے گی، اور پنجاب کو ایک محفوظ، جدید اور بے خوف صوبہ بنانے کی طرف ایک طاقتور پیش قدمی ہے۔








Discussion about this post