پاکستان کرکٹ بورڈ نے ایشیا کپ انڈر 19 کے فائنل میں بھارتی کھلاڑیوں کے متعصبانہ اور غیر اخلاقی رویے پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے معاملہ بین الاقوامی کرکٹ کونسل میں اٹھانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس پیش رفت کو کھیل کے وقار اور اسپورٹس مین اسپرٹ کے تحفظ کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے اس حوالے سے کہا کہ فائنل میچ کے دوران بھارتی کھلاڑیوں کی جانب سے بار بار پاکستانی ٹیم کو اشتعال دلانے کی کوشش کی گئی، جو نہ صرف کھیل کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ کرکٹ کی روح کے بھی منافی ہے۔ ان کے مطابق ایسے رویے عالمی کھیل میں کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہو سکتے۔ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ بھارتی ٹیم کے اس طرزِ عمل سے آئی سی سی کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا جا رہا ہے تاکہ مستقبل میں اس قسم کے واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ کھیل اور سیاست کو الگ رکھا جانا چاہیے اور کرکٹ کو احترام، برداشت اور مثبت مقابلے کی علامت ہونا چاہیے، نہ کہ اشتعال اور نفرت کا ذریعہ۔

اس معاملے پر پاکستان ٹیم کے مینٹور سرفراز احمد نے بھی بھرپور ردِعمل دیتے ہوئے بھارتی کھلاڑیوں کے رویے کو افسوسناک اور غیر اخلاقی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ میدان میں بھارتی ٹیم کا طرزِ عمل کسی بھی لحاظ سے مناسب نہیں تھا، تاہم اس کے باوجود پاکستانی کھلاڑیوں نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا اور کھیل کی اعلیٰ اقدار کو مقدم رکھا۔ سرفراز احمد نے کہا کہ پاکستانی ٹیم نے فتح کے بعد بھی اسپورٹس مین اسپرٹ کو برقرار رکھا اور کامیابی کا جشن شائستگی اور وقار کے ساتھ منایا۔ ان کے مطابق بھارتی کھلاڑیوں کا رویہ ان کا ذاتی فعل تھا، جبکہ پاکستانی ٹیم نے میدان میں نظم و ضبط، برداشت اور مثبت رویے کی روشن مثال قائم کی، جو نوجوان کھلاڑیوں کے لیے ایک قابلِ تقلید پیغام ہے۔






Discussion about this post