سپریم کورٹ آف پاکستان نے بانی پی ٹی آئی کی جیل میں موجودہ سہولیات اور حالت سے متعلق ایک تفصیلی رپورٹ سامنے آنے کے بعد ایک بار پھر انسانی حقوق اور قیدیوں کی فلاح کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے۔ یہ رپورٹ، جو عدالت میں جمع کرائی گئی، ان کی صحت، روزمرہ معمولات، سیکیورٹی اور دیگر سہولیات کی مکمل تصویر پیش کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، بانی پی ٹی آئی کی آنکھوں کے معائنے کی فوری ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ انہیں ذاتی ڈاکٹر فیصل سلطان، ڈاکٹر عاصم یوسف یا کسی بھی ماہر امراض چشم سے چیک اپ کرانے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ ان کی بینائی کے مسائل پر قابو پایا جا سکے۔ یہ مطالبہ ان کی صحت کے تحفظ کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے، جہاں بروقت طبی امداد مستقبل کی پیچیدگیوں سے بچا سکتی ہے۔ قید تنہائی اور ٹی وی تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے رپورٹ میں کتابوں کی فراہمی کی سفارش کی گئی ہے تاکہ وہ اپنا وقت مفید اور ذہنی طور پر فعال گزار سکیں۔ سیکیورٹی کے حوالے سے بانی پی ٹی آئی نے کوئی تشویش ظاہر نہیں کی۔

رپورٹ بتاتی ہے کہ ان کے استعمال والے کمپاؤنڈ میں تقریباً 10 سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہیں۔ ایک کیمرہ غسل خانے تک کوریج دیتا ہے، مگر سیل کے اندر کوئی کیمرہ نہیں۔ کمپاؤنڈ کے باہر اور اطراف کا علاقہ مسلسل نگرانی میں ہے، جو حفاظت کے سخت انتظامات کی نشاندہی کرتا ہے۔ روزمرہ معمولات کی تفصیلات دلچسپ ہیں: صبح تقریباً 9:45 بجے ناشتہ، 11:30 بجے سے ایک گھنٹہ قرآن مجید کی تلاوت، پھر محدود ورزش کے آلات، ایک ایکسرسائز بائیک اور دو 9 کلوگرام کے ڈمبل کا استعمال۔ دوپہر 1:15 بجے غسل کے بعد چہل قدمی کے شیڈ تک رسائی، جہاں بیٹھنا یا چہل قدمی ممکن ہے۔ دوپہر کا کھانا 3:30 سے 4:00 بجے کے درمیان، شام 5:00 بجے دوبارہ مختصر چہل قدمی، اور شام 5:30 بجے سے اگلی صبح 10:00 بجے تک سیل میں قیام۔ یہ احاطہ اڈیالہ جیل کے اندر تقریباً 5 منٹ کی پیدل مسافت پر واقع ہے، جو خصوصی طور پر بنایا گیا ہے۔ بیرونی دیواریں 12 فٹ بلند ہیں اور خاردار تار سے محفوظ۔ احاطے میں 12 ضرب 30 فٹ کا صاف ستھرا لان موجود ہے جہاں دھوپ، تازہ ہوا، ورزش اور چہل قدمی کے لیے جاتے ہیں۔ 5 وارڈرز اور ایک اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ 24 گھنٹے تعینات ہیں، جبکہ سیل بلاک میں 4 سیکیورٹی اہلکار موجود رہتے ہیں۔







Discussion about this post