لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے سانحہ نو مئی سے جڑے کلب چوک جی او آر گیٹ پر حملے کے مقدمے کا فیصلہ سنا دیا، جس میں پی ٹی آئی کی سینئر رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد، اعجاز چوہدری، سرفراز چیمہ اور محمود الرشید کو دس، دس سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ یہ فیصلہ انسداد دہشت گردی عدالت کے جج منظر علی گل نے کوٹ لکھپت جیل میں سنایا، جہاں اس کیس کی سماعت مکمل ہونے کے بعد 18 دسمبر کو فیصلہ محفوظ کیا گیا تھا۔ عدالتی کارروائی کے دوران سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو مقدمے سے باعزت بری کر دیا گیا۔ عدالت کے فیصلے کے مطابق مجموعی طور پر 13 ملزمان کو مختلف سزائیں سنائی گئیں، جبکہ 9 افراد کو الزامات ثابت نہ ہونے پر رہا کر دیا گیا۔ بری ہونے والوں میں شاہ محمود قریشی کا نام بھی شامل ہے، جسے عدالتی فیصلے کا نمایاں پہلو قرار دیا جا رہا ہے۔ عدالت نے اس موقع پر دورانِ اشتہاری قرار دیے گئے چار ملزمان کو گرفتار کر کے پیش کرنے کا حکم بھی دیا۔ ان اشتہاری ملزمان میں فاروق انجم، حبیب احمد، ارسلان اور اکبر خان شامل ہیں۔مقدمے کی سماعت کے دوران پراسیکیوشن نے بھرپور شواہد پیش کیے اور مجموعی طور پر 56 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے۔ اس کیس میں ڈاکٹر یاسمین راشد، شاہ محمود قریشی، عمر سرفراز، اعجاز چوہدری اور محمود الرشید سمیت 25 افراد کو نامزد کیا گیا تھا، جن کا مکمل چالان عدالت میں جمع کرایا گیا۔

یہ مقدمہ تھانہ ریس کورس میں کلب چوک جی او آر گیٹ پر حملے کے الزام میں درج کیا گیا تھا۔ ایف آئی آر کے مطابق ملزمان نے موقع پر موجود سیکیورٹی کیمروں کو توڑا، پولیس کی وائرلیس سیٹ اور جی او آر گیٹ کے شیشوں کو نقصان پہنچایا، سرکاری املاک کو تباہ کیا اور پولیس اہلکاروں پر حملہ کیا۔ استغاثہ کے مطابق پی ٹی آئی کے رہنماؤں پر الزام تھا کہ انہوں نے کارکنان کو نو مئی کے واقعات کے دوران بغاوت اور پرتشدد فسادات پر اکسانے میں کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں شہر کے حساس مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔







Discussion about this post