اسلام آباد کی عدالت نے پی ٹی آئی کے رہنما مرزا شہزاد اکبر کے خلاف سخت قدم اٹھاتے ہوئے انہیں اشتہاری قرار دے دیا ہے اور ان کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کر دیے ہیں۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب وہ بارہا طلبی کے باوجود عدالت میں پیش ہونے میں ناکام رہے۔ جوڈیشل مجسٹریٹ محمد عباس شاہ کی جانب سے جاری کردہ تحریری حکم میں واضح کیا گیا ہے کہ مرزا شہزاد اکبر کی مسلسل غیر حاضری نے عدالتی کارروائی کو متاثر کیا، جس کے بعد عدالت نے یہ فیصلہ سنایا۔ مرزا شہزاد اکبر کے خلاف متنازع ٹوئٹر بیانات کے حوالے سے مقدمہ پہلے ہی درج کیا جا چکا ہے، جبکہ اس کیس کا چالان بھی عدالت میں جمع ہو چکا ہے۔ یہ مقدمہ این سی سی آئی اے کی جانب سے جولائی 2025 میں درج کیا گیا تھا، جس نے معاملے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ سیاسی حلقوں اور عوامی سطح پر اس پیش رفت کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے، جبکہ یہ معاملہ تیزی سے توجہ کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔دوسری جانب پاکستان نے برطانیہ سے شہزاد اکبر اور عادل راجا کی حوالگی کامطالبہ بھی کررکھا ہے۔
بریکنگ نیوز: مرزا شہزاد اکبر کو مئی میں کیے یوٹیوب وی لاگ اور ایکس پوسٹ پر نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی کے جولائی 2025 میں درج مقدمہ میں اشتہاری قرار دیدیا گیا، اسلام آباد کے جوڈیشل مجسٹریٹ نے شہزاد اکبر کے دائمی وارنٹ گرفتاری بھی جاری کر دیے pic.twitter.com/e560gS4HCX
— Ehtsham Kiani (@ehtshamkiani) December 5, 2025







Discussion about this post