سرگودھا اور فیصل آباد کی انسداد دہشتگردی عدالتوں نے 9 مئی کے پرتشدد واقعات سے متعلق مقدمات میں اہم فیصلے سنا دیے ہیں، جن میں پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں اور کارکنوں کو سنگین سزائیں دی گئی ہیں۔ سرگودھا کی انسداد دہشتگردی عدالت نے جوڈیشل کمپلیکس میانوالی حملہ کیس میں گرفتار ملزم اسماعیل کو 25 سال قید کی سزا سنائی ہے، جو اب تک دی گئی سب سے طویل سزا ہے۔ عدالت نے پی ٹی آئی رہنما عمر ایوب خان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ پہلے ہی جاری کر رکھے ہیں، جبکہ وہ تاحال مفرور ہیں۔ گزشتہ روز فیصل آباد میں انسداد دہشتگردی عدالت نے 9 مئی کے دو اہم مقدمات پر فیصلہ سناتے ہوئے پی ٹی آئی کے کئی مرکزی رہنماؤں کو مختلف سزائیں سنائیں۔ حساس ادارے پر حملے سے متعلق کیس میں 185 افراد میں سے 108 کو مجرم قرار دیا گیا، جب کہ 77 افراد بری ہوئے۔غلام محمد آباد تھانے میں درج دوسرے مقدمے میں 66 میں سے 58 افراد کو 10،10 سال قید کی سزا دی گئی، جبکہ جنید افضل ساہی کو 3 سال قید ہوئی۔

اس مقدمے میں 8 افراد کو شک کا فائدہ دے کر بری کر دیا گیا۔ عدالت نے پی ٹی آئی کے سینئر رہنما عمر ایوب، شبلی فراز، زرتاج گل اور صاحبزادہ حامد رضا کو 10،10 سال قید کی سزا سنائی، جب کہ خیال کاسترو، فواد چوہدری، اور زین قریشی کو مقدمے سے بری کر دیا گیا۔ فیصلوں کے موقع پر عدالتوں کے اندر اور اطراف میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ فیصلے اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ ریاست 9 مئی کے واقعات میں ملوث عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے سنجیدہ ہے۔







Discussion about this post