کراچی کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے سابق منیجنگ ڈائریکٹر کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی (کے ای ایس سی) شاہد حامد کے قتل کیس کا فیصلہ سنا دیا ہے، جس کے تحت عدم شواہد کی بنیاد پر دو اہم ملزمان، منہاج قاضی اور محبوب غفران کو بری کر دیا گیا۔ دونوں ملزمان پر الزام تھا کہ انہوں نے 1997 میں کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس میں شاہد حامد، ان کے ڈرائیور اور محافظ کے قتل میں کردار ادا کیا۔ کیس میں مرکزی ملزم صولت مرزا کو پہلے ہی انسداد دہشت گردی عدالت نے 1999 میں سزائے موت سنائی تھی، جس پر 2015 میں بلوچستان کی مچھ جیل میں عمل درآمد ہوا۔ منہاج قاضی اور محبوب غفران کو 2016 میں گرفتار کیا گیا تھا، تاہم عدالت نے طویل سماعت اور شواہد کی عدم موجودگی کے باعث دونوں کو بری کر دیا۔ یاد رہے کہ مقدمہ ڈیفنس پولیس اسٹیشن میں درج کیا گیا تھا۔ صولت مرزا نے قتل کے بعد 1998 میں تھائی لینڈ فرار اختیار کیا، تاہم اپنی والدہ کی برسی میں شرکت کے لیے وطن واپسی پر دو ہفتے بعد اسے گرفتار کر لیا گیا تھا۔ یہ فیصلہ ایک ایسے مقدمے کا اختتام ہے جو کراچی کی سیاسی اور امن و امان کی تاریخ میں ایک اہم باب سمجھا جاتا ہے۔ عدالت کا مؤقف ہے کہ صرف الزام کی بنیاد پر سزا نہیں دی جا سکتی، اور ملزم کو بری کرنا قانون کے اصولوں کے مطابق ہے۔







Discussion about this post