فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے قصور اور گرد و نواح کے سیلاب زدہ علاقوں کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی اور ان کے دکھ درد میں شریک ہوئے۔ اس موقع پر انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ریاست ہرگز یہ برداشت نہیں کر سکتی کہ ہر سال قیمتی جانیں اور اربوں روپے کی املاک پانی کے سیلاب میں بہہ جائیں۔ فیلڈ مارشل نے نشاندہی کی کہ بہتر طرزِ حکمرانی، مربوط منصوبہ بندی اور عوامی شمولیت ہی حقیقی ترقی کی بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ سیلابی تباہ کاریوں سے بچاؤ کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کو نہ صرف یقینی بنایا جائے بلکہ انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ کی رفتار کو کئی گنا تیز کیا جائے تاکہ آنے والی نسلیں محفوظ اور مطمئن زندگی گزار سکیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے لاہور، قصور، ملتان اور جلال پور پیر والا کے متاثرہ علاقوں کا فضائی جائزہ لیا۔ بعد ازاں وہ قصور سیکٹر اور جلال پور پیر والا میں قائم فلڈ ریلیف کیمپس پہنچے جہاں متاثرین اور ریسکیو ٹیموں سے ملاقاتیں کیں۔ آمد کے موقع پر لاہور اور ملتان کور کے کور کمانڈرز نے ان کا استقبال کیا۔
فیلڈ مارشل نے پاک فوج، ریسکیو 1122 اور پولیس کے ان جوانوں سے ملاقات کی جو دن رات اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات تک منتقل کر رہے ہیں۔ انہوں نے ان کے بلند حوصلے، عملی تیاری اور قوم کی خدمت کے بے مثال جذبے کو زبردست الفاظ میں سراہا۔ سیلاب متاثرین نے اس موقع پر کہا کہ پاک فوج کی بروقت موجودگی اور انتھک محنت نے ان کے حوصلے بلند کیے اور انہیں یہ یقین دلایا کہ مشکل کی ہر گھڑی میں ریاست اور فوج ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ اپنے دورے کے اختتام پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایک بار پھر واضح کیا کہ سیلاب کے مسئلے کا پائیدار حل صرف بہتر حکمرانی، مربوط حکمتِ عملی اور عوامی تعاون کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ ہر ممکن اقدام اُٹھایا جائے گا تاکہ آئندہ کسی بھی پاکستانی کو اپنی جان اور مال کے نقصان کا سامنا نہ کرنا پڑے۔







Discussion about this post