تار
English
  • پاکستان
  • جہاں نامہ
  • صنف
  • ادب
  • اینٹرٹینمٹ
  • ویڈیوز
  • کھیل
  • کاروبار
  • صحافت
  • تجزیئے
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • جہاں نامہ
  • صنف
  • ادب
  • اینٹرٹینمٹ
  • ویڈیوز
  • کھیل
  • کاروبار
  • صحافت
  • تجزیئے
No Result
View All Result
No Result
View All Result
تار

گل پلازہ کی دوبارہ تعمیر، ہر دکان دار کو پانچ لاکھ روپے دینے کا اعلان

by ویب ڈیسک
جنوری 23, 2026
کراچی میں وکیل کا قتل اور ’جسٹس فار عرفان مہر‘ کا ہیش ٹیگ
Share on FacebookShare on Twitter

سندھ اسمبلی کے فلور پر وزیرِ اعلیٰ مراد علی شاہ نے گل پلازہ سانحے پر تفصیلی اور پُراثر پالیسی بیان دیتے ہوئے متاثرہ تاجروں اور لواحقین کے لیے فوری ریلیف اور مستقبل کے لائحہ عمل کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ گل پلازہ کا سانحہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ ایسا المیہ ہے جس نے پورے ملک کو سوگوار کر دیا، اور اب وقت آ گیا ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سنجیدہ اور ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔وزیرِ اعلیٰ نے اعلان کیا کہ گل پلازہ کے ہر دکان دار کو پہلے مرحلے میں پانچ لاکھ روپے کی مالی امداد دی جائے گی، جبکہ پلازہ کی دوبارہ تعمیر بھی حکومت سندھ خود کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حادثے میں ابتدائی طور پر 88 افراد کے لاپتا ہونے کی اطلاعات موصول ہوئیں، تصدیق کے بعد 82 افراد کا عدد درست ثابت ہوا، اب تک 67 لاشیں برآمد ہو چکی ہیں جبکہ 15 افراد تاحال لاپتا ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 15 افراد کے ڈی این اے میچ ہو چکے ہیں اور 52 کے نمونے پراسس میں ہیں، شناخت مکمل ہوتے ہی لاشیں ورثا کے حوالے کی جائیں گی۔ مراد علی شاہ نے ایوان کو آگاہ کیا کہ گل پلازہ میں آگ رات دس بج کر چودہ منٹ پر گراؤنڈ فلور کی ایک دکان میں لگی، دس بج کر چھبیس منٹ پر فائر بریگیڈ کو کال موصول ہوئی جبکہ ریسکیو 1122 کو دس بج کر چھتیس منٹ پر اطلاع دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ کمی یا کوتاہی کی مکمل تحقیقات کی جا رہی ہیں، واقعے کا مقدمہ درج ہوگا اور جو بھی ذمہ دار پایا گیا اسے قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔وزیرِ اعلیٰ نے واضح کیا کہ انہیں کسی کی نیت پر شک نہیں، مگر اس المیے پر سیاست کرنا ایک سنگین ناانصافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حادثے کے صرف سولہ منٹ بعد حکومتی نمائندہ، ڈپٹی کمشنر ساؤتھ موقع پر پہنچ گیا تھا، تاہم اس بیان پر ایوان میں ہنگامہ ہوا اور جماعت اسلامی کے رکن محمد فاروق نے کھڑے ہو کر اعتراض کیا کہ ڈی سی موقع پر موجود نہیں تھے۔ اس موقع پر مراد علی شاہ نے تلخ مگر دوٹوک انداز میں کہا کہ چور کی داڑھی میں تنکا، گل پلازہ کی لیز کراچی میونسپل کارپوریشن نے منظور کی تھی، اور یہ عمارت اسی کی دہائی میں مکمل ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ 1991 میں کی ایم سی نے اس کی لیز میں توسیع کی، اس وقت شہر کا میئر کون تھا، یہ سب ریکارڈ کا حصہ ہے۔ 1979 میں اس عمارت کو بیسمنٹ، گراؤنڈ اور دو منزلوں کی منظوری دی گئی تھی، بعد میں آنے والی بے ضابطگیوں کو ایک آرڈیننس کے ذریعے ریگولرائز کیا گیا، مگر کاغذات میں موجود ایمرجنسی راستے عملاً موجود نہیں تھے۔ وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ اس سانحے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا ان کے نزدیک ایک بڑا جرم ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پر تنقید ضرور کریں مگر سیاست نہ کریں۔ واقعہ ہفتے کے روز پیش آیا، پیر کو اجلاس بلا کر تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی گئی، اور اگر کسی سرکاری ادارے کی غفلت ثابت ہوئی تو وہ بھی سزا سے نہیں بچ سکے گا۔

gul plaza

مراد علی شاہ نے ماضی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ کراچی میں بولٹن مارکیٹ، ٹمبر مارکیٹ اور کوآپریٹو مارکیٹ جیسے سانحات کے بعد بھی تاجروں کو معاوضہ دلایا گیا تھا، صدر زرداری نے شہدا کے لیے ایک کروڑ روپے کا اعلان کیا تھا، اور اسی روایت کو یہاں بھی برقرار رکھا جائے گا۔ شناخت مکمل ہونے کے بعد کمشنر کراچی متاثرہ خاندانوں کو رقوم ادا کریں گے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ گل پلازہ میں موجود 1102 دکانیں ایس بی سی اے سے منظور شدہ تھیں اور تمام دکان داروں کو معاوضہ دیا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں ہر دکان کے مالک کو پانچ لاکھ روپے کراچی چیمبر کے ذریعے ادا کیے جائیں گے۔ وزیرِ اعلیٰ نے ان مالکان کا شکریہ بھی ادا کیا جنہوں نے ایک سال تک کرایہ نہ لینے کا اعلان کیا۔مراد علی شاہ نے کہا کہ تاجروں کو دو سال تک متبادل دکانیں فراہم کی جائیں گی تاکہ ان کا کاروبار متاثر نہ ہو۔ ایک کروڑ روپے تک کا قرضہ تاجر حاصل کر سکیں گے، جس پر سود حکومت سندھ ادا کرے گی۔ متاثرین کی سیکیورٹی بھی سندھ حکومت کی ذمہ داری ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ گل پلازہ کو گرانا ناگزیر ہے، مگر کوشش کی جائے گی کہ دو سال کے اندر اسے دوبارہ تعمیر کر کے دکانیں تاجروں کے حوالے کر دی جائیں۔ وزیرِ اعلیٰ نے مزید کہا کہ دو ماہ کے اندر عارضی دکانوں کا بندوبست کر دیا جائے گا اور گل پلازہ کو اس کی اصل شکل میں بحال کیا جائے گا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ کی ایم سی کی جانب سے عمارتوں کے آڈٹ سے متعلق خط سی ایم ہاؤس تک پہنچا تھا، مگر اس وقت وہ وزیرِ اعلیٰ نہیں تھے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ سول ڈیفنس سمیت تمام متعلقہ اداروں کو ایک مربوط نظام کے تحت اکٹھا کیا جائے گا۔مراد علی شاہ نے وفاقی وزیرِ تجارت سے گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں انشورنس کا مؤثر نظام موجود نہیں، اس لیے اس حوالے سے قانون سازی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ غلطی کی نشاندہی کرنے سے حکومت چھوٹی نہیں ہوتی، مگر خفیہ ایجنڈے برداشت نہیں کیے جائیں گے۔ قومی اسمبلی میں کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کے بیانات پر انہوں نے دوٹوک کہا کہ آئین میں ایسی کوئی گنجائش موجود نہیں، اور اٹھارویں ترمیم سے پہلے کے مسائل کو صاف کرنا صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے۔وزیرِ اعلیٰ کی تقریر کے اختتام پر ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی کے ارکان اپنی نشستوں سے کھڑے ہو گئے، جس پر اسپیکر نے سختی سے انہیں بیٹھنے اور قواعد و ضوابط کا خیال رکھنے کی ہدایت کی، ساتھ ہی واضح کیا کہ ہر رکن کو بات کرنے کا موقع دیا جائے گا مگر ایوان کو ڈکٹیٹ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

Previous Post

ٹک ٹاک کا امریکی پابندیوں سے بچنے کیلئے جوائنٹ وینچر

Next Post

آسٹریلیا کے خلاف پاکستانی اسکواڈ کا اعلان

Next Post
پاکستان کی فتح، سیریز اپنے نام

آسٹریلیا کے خلاف پاکستانی اسکواڈ کا اعلان

Discussion about this post

تار نامہ

children

یتیم بچوں اور بیواؤں کے لیے ’وزیراعلیٰ پنجاب رحمت کارڈ‘ متعارف کرانے کا فیصلہ

port

پاکستانی بندرگاہوں کی عارضی بندش سے متعلق زیرِ گردش نوٹیفکیشن جعلی ہے

ayat al khumani 2

ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کی نماز جنازہ کیوں مؤخر ہوئی ؟

currency note

نئے کرنسی نوٹ کیسے حاصل کریں؟

dog

پنجاب میں 2 سال کے دوران 4 لاکھ 36 ہزار سے زائد کتوں کے کاٹنے کے واقعات

تار

  • ہمارے بارے میں
  • پرائیویسی پالیسی

No Result
View All Result
  • پاکستان
  • جہاں نامہ
  • صنف
  • ادب
  • اینٹرٹینمٹ
  • ویڈیوز
  • کھیل
  • کاروبار
  • صحافت
  • تجزیئے

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist