ستائیسیویں آئینی ترمیم کے معاملے پر ملک کے سینیئر وکلا اور ریٹائرڈ ججز نے چیف جسٹس آف پاکستان کو ایک اہم اور غیر معمولی خط لکھا ہے، جس میں سپریم کورٹ سے اس آئینی پیش رفت پر باضابطہ ردعمل دینے اور فل کورٹ میٹنگ بلانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ خط پر دستخط کرنے والوں میں جسٹس (ر) مشیر عالم، مخدوم علی خان، منیر اے ملک، عابد زبیری، جسٹس (ر) ندیم اختر، اکرم شیخ، انور منصور، علی احمد کرد، خواجہ احمد حسین اور صلاح الدین احمد جیسے ممتاز قانونی ماہرین شامل ہیں۔خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ یہ خط غیر معمولی حالات میں لکھا جا رہا ہے، کیونکہ سپریم کورٹ اپنی تاریخ کے سب سے بڑے چیلنج سے دوچار ہے۔ ان کے مطابق، ملک کی کسی سول یا فوجی حکومت کو کبھی بھی سپریم کورٹ کو اپنا ماتحت ادارہ بنانے میں کامیابی نہیں ملی، لیکن موجودہ حالات میں یہ پہلا موقع ہے کہ ایسی کوشش واضح طور پر دکھائی دے رہی ہے۔سینیئر وکلا اور سابق ججز نے اپنے خط میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ آئین میں ترمیم کے اس عمل پر سپریم کورٹ کو بطور ادارہ اپنا موقف پیش کرنا چاہیے، کیونکہ عدالتِ عظمیٰ کے پاس آئینی ترامیم کے بارے میں اپنا اِن پٹ دینے کا مکمل اختیار موجود ہے۔

انہوں نے چیف جسٹس سے اپیل کی ہے کہ وہ فل کورٹ میٹنگ بلا کر سپریم کورٹ کے جج صاحبان کو اس آئینی معاملے پر مشاورت کے لیے ایک پلیٹ فارم پر جمع کریں، تاکہ ادارے کی خودمختاری اور آئینی توازن برقرار رکھا جا سکے۔ خط کے آخر میں لکھا گیا ہے کہ اگر چیف جسٹس بھی اس بات سے متفق ہیں کہ یہ آئینی ترمیم عدلیہ کی خودمختاری پر اثرانداز ہونے کی پہلی سنجیدہ کوشش ہے، تو پھر سپریم کورٹ کا ردعمل دینا نہ صرف اس کا حق بلکہ اس کی آئینی ذمہ داری بھی ہے۔







Discussion about this post