تار
English
  • پاکستان
  • جہاں نامہ
  • صنف
  • ادب
  • اینٹرٹینمٹ
  • ویڈیوز
  • کھیل
  • کاروبار
  • صحافت
  • تجزیئے
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • جہاں نامہ
  • صنف
  • ادب
  • اینٹرٹینمٹ
  • ویڈیوز
  • کھیل
  • کاروبار
  • صحافت
  • تجزیئے
No Result
View All Result
No Result
View All Result
تار

چیف جسٹس فائز کا جسٹس منصور کے خط کا جواب

by ویب ڈیسک
ستمبر 26, 2024
پولیس کی عزت نہیں رہی، لگ رہا ہے کرائے کی پولیس بن گئی
Share on FacebookShare on Twitter

چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے جسٹس منصور علی شاہ کے خط کا جواب دے دیا ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کے اجلاس میں شرکت سے انکار کیا تھا۔جسٹس منصور علی شاہ نے خط لکھ کر صدارتی آرڈیننس پر تحفظات کا اظہار کیا تھا، انہوں نے جسٹس منیب اختر کے کمیٹی سے اخراج پر سوال اٹھایا تھا۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے لکھے گئے خط کے مندرجات تاحال سامنے نہیں آ سکے ہیں تاہم انہوں نے جسٹس منیب اختر کو کمیٹی میں شامل نہ کرنے کی 11 وجوہات بتائی ہیں۔ خط کے مطابق سینئر ججز سے جسٹس منیب کا رویہ انتہائی درشت تھا، ایسا جسٹس منصور آپ کے اصرار پر کیا گیا، قانوناً آپ اس بات پر سوال نہیں اٹھا سکتے کہ چیف جسٹس کس جج کو کمیٹی میں شامل کرے چونکہ میں ہمیشہ احتساب اور شفافیت کی حمایت کرتا رہا ہوں، میں وجوہات فراہم کروں گا کہ جسٹس منیب اختر کو کیوں تبدیل کیا گیا، یہ یاد رہےکہ میں یہ آپ کے اصرار پر کر رہا ہوں، تاکہ کوئی ناراض نہ ہو جائے۔ جسٹس منیب اختر نے پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کی سخت مخالفت کی تھی، جسٹس منیب ان 2 ججوں میں تھے جنہوں نے مقدمات کے بوجھ سے لاپرواہ ہو کر گرمیوں کی پوری تعطیلات کیں، وہ تعطیلات کے دوران عدالت کا کام کرنے کے لیے دستیاب نہیں تھے۔ تعطیلات پر ہونے کے باوجود انہوں نے کمیٹی میٹنگز میں شرکت پر اصرار کیا، جو کہ اگلے سینئر جج جسٹس یحییٰ پر ان کا عدم اعتماد ظاہر کرتا ہے۔پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کہتا ہے کہ ارجنٹ مقدمات 14 روز میں سماعت کے لیے مقرر ہوں گے، جسٹس منیب اختر نے درخواست گزاروں کے آئینی اور قانونی حق کے بر خلاف ارجنٹ آئینی مقدمات سننے سے انکار کیا اور چھٹیوں کو فوقیت دی۔ سپریم کورٹ کی روایت کے برعکس اپنے سینئر ججوں(ایڈہاک ججز) کا احترام نہ کیا، سینئر ججز (ایڈہاک ججز) کو ایسے 1100 مقدمات کی سماعت تک ہی محدود کر دیا، ایڈہاک ججز کو شریعت ایپلٹ بینچ کے مقدمات بھی سننے نہیں دیے گئے۔ چیف جسٹس نے جوابی خط میں کہا کہ جسٹس منیب اختر نے کمیٹی کے ایک معزز رکن سے غیرشائستہ، درشت اور نامناسب رویہ اختیار کیا جس میں تمام چیف جسٹسز شامل تھے اور سینئر ترین جج بھی حصہ تھے، جسٹس منیب اختر محض عبوری حکم جاری کر کے 11 بجے تک کام کرتے ہیں، ان کے ساتھی ججوں نے ان کے اس رویے کی شکایت کی، آڈیو لیک کیس پر حکم امتناع جاری کر کے وہ کیس سماعت کے لیے مقرر ہی نہ کرنے دیا گیا۔

Previous Post

لاہور پی ٹی آئی جلسہ ، 30 ستمبر تک فیصلہ کرنے کی ہدایت

Next Post

شکیب الحسن نے ٹیسٹ اور ٹی ٹوئنٹی کو الوداع کہہ دیا

Next Post
شکیب الحسن آخری میچ سے باہر

شکیب الحسن نے ٹیسٹ اور ٹی ٹوئنٹی کو الوداع کہہ دیا

Discussion about this post

تار نامہ

iran

پڑوسی ممالک کیخلاف حملے نہیں کیے جائیں گے, ایرانی صدر

ispr

فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سعودی وزیرِ دفاع سے ملاقات، خطے سے متعلق تبادلہ خیال

petrol pump

ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی کوئی قلت نہیں ہے، ترجمان اوگرا

9 may 2

جی ایچ کیو حملہ کیس ، عمر ایوب ، شبلی فراز ، حماد اظہر سمیت 47 ملزمان کو 10 ، 10 سال قید

a1178

ہمت ہے تو آبنائے ہرمز سے گزر کر دکھاؤ ،ایرانی فوج

تار

  • ہمارے بارے میں
  • پرائیویسی پالیسی

No Result
View All Result
  • پاکستان
  • جہاں نامہ
  • صنف
  • ادب
  • اینٹرٹینمٹ
  • ویڈیوز
  • کھیل
  • کاروبار
  • صحافت
  • تجزیئے

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist