افغان شہریوں کی وطن واپسی کے سلسلے میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ خیبر کے طورخم بارڈر کو افغان پناہ گزینوں کی رضاکارانہ واپسی کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کی واپسی کا عمل باقاعدہ طور پر شروع ہوچکا ہے۔ صبح سے ہی سینکڑوں افغان شہری اپنے سامان اور خاندانوں کے ساتھ طورخم امیگریشن پوائنٹ پہنچنا شروع ہوگئے ہیں، جہاں ان کی دستاویزات کی جانچ اور اندراج کیا جا رہا ہے۔ ڈپٹی کمشنر خیبر بلال شاہد راؤ نے تصدیق کی ہے کہ سرحد صرف افغان شہریوں کی واپسی کے لیے کھولی گئی ہے، جب کہ تجارت اور پیدل آمدورفت تاحال معطل ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدام وفاقی حکومت کے فیصلے کے تحت اٹھایا گیا ہے تاکہ ملک میں غیر قانونی قیام پذیر افراد کی مرحلہ وار واپسی کو ممکن بنایا جا سکے۔ذرائع کے مطابق پاک–افغان کشیدگی کے باعث طورخم سرحد 11 اکتوبر سے ہر قسم کی آمدورفت کے لیے بند تھی۔ تاہم، موجودہ فیصلے کے تحت انسانی بنیادوں پر واپسی کے عمل کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سرحد پر پھنسے افغان شہری اپنے وطن لوٹ سکیں۔








Discussion about this post