سال کے اختتام پر بٹ کوائن نے کرپٹو مارکیٹ میں ایک زبردست واپسی کا مظاہرہ کیا ہے اور دوبارہ 90 ہزار ڈالر کی اہم سطح عبور کر لی ہے۔ اس اضافے کے نتیجے میں مجموعی کرپٹو مارکیٹ کی سرمایہ کاری میں 80 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا اور مارکیٹ کیپ 3 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر گئی، جو وسط دسمبر کے بعد پہلی بار دیکھنے میں آیا ہے۔ تجارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ سونا اور چاندی کی قیمتوں میں کمی کے بعد سرمایہ کار اپنی توجہ بٹ کوائن کی جانب منتقل کر رہے ہیں۔ اس وقت مارکیٹ میں امید کی لہر ہے اور کچھ پیش گوئیوں کے مطابق آنے والے سالوں میں بٹ کوائن کی قیمت 2 لاکھ ڈالر یا اس سے بھی زیادہ سطح تک جا سکتی ہے۔ تاہم معروف اقتصادی ماہر پیٹر شیف نے اس اضافہ کو بٹ کوائن فروخت کرنے کا مناسب موقع قرار دیا ہے۔

ان کے مطابق سال کے اختتام پر قیمتوں میں یہ اچانک اضافہ سرمایہ کاروں کے لیے منافع لینے کا موقع فراہم کرتا ہے۔2025 کے اختتام تک بٹ کوائن کو مثبت سال ختم کرنے کے لیے حالیہ کم ترین سطح سے تقریباً 6 فیصد کا اضافہ درکار ہے۔ سال کی ابتدا میں بٹ کوائن کی قیمت تقریباً 93 ہزار ڈالر تھی، جبکہ اس کی زیادہ سے زیادہ قیمت ایک لاکھ 26 ہزار ڈالر تک جا پہنچی تھی۔

اس اضافے نے نہ صرف کرپٹو مارکیٹ میں سرمایہ کاری کی حرارت دوبارہ پیدا کی ہے بلکہ مارکیٹ کے اعتماد میں بھی اضافہ کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بٹ کوائن کی اتار چڑھاؤ والی فطرت کے باوجود، سرمایہ کار اس کو طویل مدتی سرمایہ کاری کے طور پر دیکھ رہے ہیں، اور مستقبل میں اس کی قیمت میں مزید اضافہ کی توقع کی جا رہی ہے۔ اس مثبت رجحان کے ساتھ، کرپٹو مارکیٹ کے تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ سرمایہ کاروں کو مارکیٹ کی موجودہ صورتحال اور عالمی اقتصادی حالات پر گہری نظر رکھنی چاہیے تاکہ مناسب وقت پر سرمایہ کاری یا فروخت کے فیصلے کیے جا سکیں۔







Discussion about this post