اسلام آباد میں پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے زیر اہتمام منعقدہ سیمینار ’’دنیا کے امن کے لیے پاکستان کی دہشتگردی کے خلاف جنگ‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہمیشہ ہراول دستے کا کردار ادا کیا ہے، اور اس جنگ کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف کسی صورت سرینڈر نہیں کرے گا، کیونکہ یہ لفظ پاکستان کی ڈکشنری میں موجود ہی نہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ دہشتگردی ایک عالمی مسئلہ ہے اور پاکستان اس کے خلاف پورے عزم اور قربانی کے ساتھ برسرپیکار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے اب تک دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 92 ہزار سے زائد قیمتی جانوں کی قربانی دی ہے اور بڑے پیمانے پر مالی نقصان بھی اٹھایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آپریشن ضربِ عضب اور ردالفساد جیسے اقدامات نے دہشتگردوں کی کمر توڑ دی ہے اور پاکستان آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ مستقبل دینے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ اس جنگ میں پاکستان کے ساتھ تعاون کرے، کیونکہ یہ جنگ صرف پاکستان کی نہیں بلکہ پوری دنیا کے امن کی جنگ ہے۔
In the grim arithmetic of the last two and half decades, Pakistan has buried 9200 sons and daughters, civilians and soldiers alike. Our economy has forfeited more than a billion dollars in lost growth, shattered infrastructure, and displaced livelihoods. And we still fight… pic.twitter.com/x1lXNVixfZ
— PPP (@MediaCellPPP) July 2, 2025
اپنے خطاب میں بلاول بھٹو زرداری نے بھارت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کا کوئی مذہب اور سرحد نہیں ہوتی، بھارت کو الزام تراشی کی بجائے عالمی کوششوں کا حصہ بننا چاہیے اور خطے کے امن کے لیے مذاکرات کی میز پر آنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر جیسے تصفیہ طلب معاملات پر بات چیت ناگزیر ہے۔ افغانستان کے تناظر میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ طالبان کی عبوری حکومت دوحہ معاہدے کی مکمل پاسداری کرے اور افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ طالبان حکومت کے بعد پاکستان پر افغانستان سے حملوں میں 40 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ انہوں نے نوجوانوں پر بھی زور دیا کہ آج کے ڈیجیٹل دور میں انہیں تیز رفتار انٹرنیٹ اور ترقی کے مواقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی 65 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے، جنہیں مثبت سمت میں لانا اہم قومی ترجیح ہونی چاہیے۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ صرف فوجی طاقت سے دہشتگردی کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں، بلکہ ہمیں اسمارٹ پاور یعنی نرم اور سخت طاقت کے متوازن استعمال سے کام لینا ہوگا تاکہ انتہاپسندی کو جڑ سے ختم کیا جا سکے۔ ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ گرے لسٹنگ جیسے محض سزا پر مبنی اقدامات سے آگے بڑھ کر عالمی برادری کو فعال انٹیلیجنس شیئرنگ پر توجہ دینی ہوگی، تاکہ دہشتگردی کی مالی معاونت کے خلاف مؤثر عالمی کارروائی ممکن ہو سکے۔ انہوں نے مالیاتی اداروں اور بینکوں پر بھی زور دیا کہ وہ دہشتگردی سے منسلک فنڈز کی ترسیلات پر سخت نظر رکھیں، اور ایسے بینک جو اس عمل میں دانستہ شریک ہوں، انہیں وہی رسوائی سہنی چاہیے جو منشیات کی دولت کو سفید کرنے والوں کے حصے میں آتی ہے۔ خطاب کے اختتام پر بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنی آخری تقریر میں بھی دہشتگردی کے خلاف آواز بلند کی تھی، اور آج پیپلز پارٹی اسی مشن کو لے کر آگے بڑھ رہی ہے۔







Discussion about this post