پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں مسلم لیگ (ن) کا وفد صدر آصف علی زرداری اور خود ان سے ملاقات کے لیے آیا، جس میں 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے پی پی پی کی حمایت طلب کی گئی۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پوسٹ میں بلاول بھٹو زرداری نے واضح کیا کہ مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم میں آئینی عدالت کا قیام، ایگزیکٹو مجسٹریٹس کی بحالی، ججوں کے تبادلے کا اختیار شامل ہے۔ چیئرمین پیپلزپارٹی نے مزید کہا کہ ترمیم میں این ایف سی میں صوبائی حصے کے تحفظ کا خاتمہ، آرٹیکل 243 میں ترمیم، تعلیم اور آبادی کی منصوبہ بندی کے اختیارات کی وفاق کو واپسی اور الیکشن کمیشن کی تقرری کے تعطل کا خاتمہ بھی شامل ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں مسلم لیگ ن کا وفد صدر زرداری اور مجھ سے ملنے آیا تھا، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری
مسلم لیگ ن کے وفد نے 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری میں پاکستان پیپلزپارٹی کی حمایت مانگی، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری
مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم میں آئینی عدالت کا قیام،… https://t.co/AAHE5BzYlP
— PPP (@MediaCellPPP) November 3, 2025
بلاول بھٹو زرداری نے اعلان کیا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس 6 نومبر کو صدرِ پاکستان کے دوحہ سے واپسی پر طلب کیا گیا ہے تاکہ پارٹی کی حتمی پالیسی اور موقف طے کیا جا سکے۔یاد رہے کہ 20 اور 21 اکتوبر 2024 کو سینیٹ اور قومی اسمبلی نے 26 ویں آئینی ترمیم کی منظوری دی تھی، جو 22 شقوں پر مشتمل تھی۔ قومی اسمبلی میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ترمیم پیش کی، جس کے حق میں 225 اراکین اور مخالفت میں 12 اراکین نے ووٹ دیا۔ سینیٹ میں بھی ترمیم کے حق میں 65 اور مخالفت میں 4 اراکین نے ووٹ دیا تھا۔







Discussion about this post