بنگلادیش کی تاریخ ایک نئی صبح کے ساتھ جگمگا اٹھی ہے۔ آج، 12 فروری 2026 کو، ملک بھر میں ووٹوں کی بارش ہو رہی ہے. وہ ووٹ جو نہ صرف قومی اسمبلی کے 300 نشستیں طے کریں گے بلکہ ایک نئی جمہوری منزل کی بنیاد بھی رکھیں گے۔ شیخ حسینہ واجد کی اقتدار سے بے دخلی کے بعد یہ پہلے عام انتخابات ہیں، جو جولائی 2024 کے طوفانی انقلاب کے بعد ملک کی روح کو نئی جہت دینے کا موقع ہیں۔تقریباً 12 کروڑ 70 لاکھ ووٹرز، جن میں سے 44 فیصد نوجوان ہیں، آج اپنی آواز بلند کر رہے ہیں۔ صبح ساڑھے سات بجے سے شام ساڑھے چار بجے تک جاری رہنے والا یہ ووٹنگ کا عمل ایک تاریخی لمحہ ہے، جہاں ہر ووٹ ایک خواب کو حقیقت میں بدلنے کی کوشش ہے۔ سیکورٹی کے سخت انتظامات کے ساتھ تین لاکھ سے زائد اہلکار تعینات ہیں تاکہ یہ دن پرامن اور منصفانہ رہے۔میدان میں دو بڑی طاقتیں آمنے سامنے ہیں: بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی قیادت میں طارق رحمان، جو خالدہ ضیا کے بیٹے اور 17 سال کی جلاوطنی کے بعد واپس آئے ایک نئی امید کا نشان ہیں۔ وہ امن، استحکام، خواتین کی ترقی اور معیشت کی بحالی کے وعدے لے کر آئے ہیں۔

دوسری جانب جماعت اسلامی کے امیر شفیق الرحمان کی سربراہی میں گیارہ جماعتوں کا اتحاد، جس میں جین زی انقلاب کا نیشنل سٹیزن پارٹی بھی شامل ہے، تبدیلی کی نئی لہر لانے کا دعویٰ کر رہا ہے۔ طارق رحمان نے ووٹ ڈالتے ہوئے کہا کہ امن میری اولین ترجیح ہے، تاکہ ہر شہری خود کو محفوظ محسوس کرے۔ شفیق الرحمان نے نوجوانوں کو انقلاب کا ہیرو قرار دیتے ہوئے اپیل کی کہ پروپیگنڈے سے بالاتر ہو کر ووٹ کا مقدس فریضہ ادا کریں۔ دونوں رہنما آج ووٹ ڈال چکے ہیں، اور ان کی تقریروں میں امید کی ایک نئی کرن جھلک رہی ہے۔ عوامی لیگ پر پابندی کی وجہ سے وہ میدان میں نہیں، مگر یہ خلا ایک نئی سیاسی ترتیب پیدا کر رہا ہے۔ اکثریت کے لیے 151 نشستیں جیتنا ضروری ہے، اور سروے بی این پی کو برتری دیتے ہیں، جبکہ جماعت اسلامی کا اتحاد بھی مضبوط چیلنج پیش کر رہا ہے۔







Discussion about this post