6 سے 8 فروری تک لاہور میں عوامی ٹرانسپورٹ مکمل طور پر مفت دستیاب ہوگی، جس کا مقصد شہریوں کو جشن کے دوران آرام دہ اور محفوظ سفر فراہم کرنا ہے۔

یہ فیصلہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی منظوری کے ساتھ نافذ کیا جائے گا اور شہر میں ٹریفک کے دباؤ کو بھی کم کرے گا۔انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ موٹرسائیکل کے بجائے ماس ٹرانزٹ سسٹم استعمال کریں، کیونکہ پتنگ کے دھاگے حادثات کا سبب بن سکتے ہیں۔ اورنج لائن میٹرو ٹرین روزانہ تقریباً 2 لاکھ 50 ہزار مسافروں کو سفر کی سہولت فراہم کرے گی، جس سے بسنت کے دنوں میں بڑے پیمانے پر نقل و حمل آسان ہوگی۔ شاہدرہ سے گجومتہ تک میٹرو بس سروس بھی مکمل طور پر مفت ہوگی، تاکہ شہر کے اہم علاقوں تک رسائی بلا رکاوٹ ممکن ہو۔ شہر کے 24 مخصوص روٹس پر 200 سے زائد اسپیدو اور الیکٹرک بسیں عوام کی خدمت میں دستیاب ہوں گی، تاکہ ہر شہری کو آسان سفر ممکن ہو۔ پنجاب حکومت نے پہلی بار نجی رائیڈ ہیلنگ کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کی ہے، جس کے تحت 60 ہزار مفت کیب رائیڈز اور 6 ہزار مفت رکشہ سفر فراہم کیے جائیں گے۔
بسنت کے دوران لاہور کے اہم علاقوں کو لبرٹی چوک اور دیگر تقریباتی مقامات سے منسلک کرنے کے لیے 24 مرکزی بس روٹس تیار کیے گئے ہیں۔پولیو مہم بھی جشن کے دوران جاری رہے گی، تاکہ ہر بچے کو ویکسین کی حفاظت فراہم کی جا سکے اور بچوں کی صحت کو اولین ترجیح دی جائے۔انتظامیہ نے کہا ہے کہ بسنت کے دنوں میں فرنٹ لائن ورکرز مسلسل متحرک رہیں گے، اور دیگر صوبوں سے آنے والے افراد کے باعث وائرس کے دوبارہ تعارف کے خطرات سے بچاؤ کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں گے۔موبائل ٹیمیں اور ہائی الرٹ چیک پوائنٹس جشن کے دوران فعال رہیں گے، تاکہ لاہور میں عوام اور بچوں کی سلامتی یقینی بنائی جا سکے۔







Discussion about this post