وفاقی وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ پاکستان اب مایوسی، بحران اور غیر یقینی کی فضا سے نکل کر امکانات، اصلاحات اور مثبت تبدیلی کے ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق ملک اس وقت ایک ایسے فیصلہ کن معاشی مرحلے پر کھڑا ہے جہاں درست سمت میں اٹھائے گئے اقدامات مستقبل کی بنیاد مضبوط کر رہے ہیں۔ امریکی اخبار یو ایس اے ٹوڈے کو دیے گئے ایک جامع اور معنی خیز انٹرویو میں وزیرِ خزانہ نے کہا کہ پاکستان کی معیشت نے طویل عدم استحکام کے بعد اب سنبھل کر آگے بڑھنا شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ معاشی نظم و ضبط، پالیسیوں کے تسلسل اور مسلسل اصلاحات کے باعث نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ عالمی سطح پر بھی اعتماد بحال ہو رہا ہے اور سرمایہ کاری کے دروازے دوبارہ کھل رہے ہیں۔ یہ انٹرویو چند ہفتے قبل ریکارڈ کیا گیا تھا، جسے اب یو ایس اے ٹوڈے کی سولہ صفحات پر مشتمل خصوصی اشاعت پاکستان اسپیشل رپورٹ میں شائع کیا گیا ہے۔ اس خصوصی رپورٹ میں پاکستان کی معیشت، سرمایہ کاری کے نئے مواقع اور مستقبل کی پالیسی ترجیحات پر تفصیلی تجزیے پیش کیے گئے ہیں، جو پاکستان کی بدلتی ہوئی تصویر کو نمایاں کرتے ہیں۔ سینیٹر محمد اورنگزیب کے مطابق مالی سال 2025 کا آغاز پاکستان نے کہیں زیادہ مضبوط معاشی بنیادوں کے ساتھ کیا ہے۔ میکرو اکنامک استحکام، بیرونی کھاتوں میں بہتری اور ساختی اصلاحات کے لیے مضبوط عزم نے معیشت کو ایک نئی سمت عطا کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی دہائیوں بعد پاکستان نے پرائمری بجٹ سرپلس اور کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس حاصل کیا ہے، جو خساروں کے طویل سلسلے کے خاتمے کی واضح علامت ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ترسیلاتِ زر میں نمایاں اضافہ معاشی بہتری کا ایک اہم سبب بنا، جبکہ مہنگائی جو ایک وقت میں 38 فیصد کی خطرناک سطح تک پہنچ گئی تھی، اب کم ہو کر سنگل ڈیجٹ میں آ چکی ہے۔ زرِ مبادلہ کے ذخائر 14.5 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں، جس سے نہ صرف درآمدات کو سہارا ملا بلکہ شرحِ مبادلہ میں استحکام کے ذریعے سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بحال ہوا ہے۔ وزیرِ خزانہ نے اس حقیقت پر زور دیا کہ معاشی استحکام اگرچہ ضروری ہے، مگر اصل ہدف پائیدار اور دیرپا ترقی ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ مالی سال میں حاصل ہونے والی 2.7 فیصد معاشی نمو ایک مثبت پیش رفت ضرور ہے، لیکن تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے یہ رفتار ناکافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے کھپت اور قرضوں پر مبنی ترقی کے ماڈل کو ترک کر دیا ہے اور اب برآمدات پر مبنی ترقی کو اپنی معاشی حکمتِ عملی کا مرکز بنایا جا رہا ہے۔ موجودہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات، توانائی کے شعبے میں بہتری، سرکاری اداروں کی اصلاح اور ٹیرف میں تبدیلی جیسے اقدامات شامل ہیں، جن کا مقصد معیشت کو عالمی منڈی میں زیادہ مسابقتی بنانا ہے۔ سینیٹر محمد اورنگزیب کے مطابق پاکستان اپنی معاشی سمت کو بدلتی ہوئی عالمی ضروریات کے ساتھ ہم آہنگ کر رہا ہے، جہاں آئی ٹی سروسز، ٹیکسٹائل اور زرعی برآمدات کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات چار ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں اور اگر پالیسیوں کا تسلسل برقرار رہا تو آئندہ پانچ برسوں میں یہ رقم دوگنا ہو سکتی ہے۔ برآمد کنندگان کے لیے ٹیکس نظام کو آسان بنانے اور انتظامی رکاوٹیں کم کرنے کے اقدامات بھی تیزی سے جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اداروں کی نجکاری، توانائی کے شعبے کی تنظیمِ نو اور ٹیرف لبرلائزیشن ان دیرینہ مسائل کے حل کے لیے ہیں جو ماضی میں قومی خزانے پر بوجھ بنتے رہے۔ یہ اصلاحات عالمی بینک کے اس وژن سے ہم آہنگ ہیں جس کے مطابق پاکستان میں ایک ممکنہ ایسٹ ایشیا مومنٹ جنم لے سکتا ہے۔ وزیرِ خزانہ نے عالمی بینک کے دس سالہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کے تحت معاشی اصلاحات کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی تبدیلی اور آبادی جیسے چیلنجز سے نمٹنے پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کا مستقبل صرف معاشی اشاریوں سے وابستہ نہیں بلکہ آبادی میں تیز رفتار اضافہ، موسمیاتی تبدیلی، بچوں میں غذائی قلت، تعلیمی پسماندگی اور بچیوں کی تعلیم جیسے بنیادی مسائل کے حل سے جڑا ہے۔

ان کے مطابق خواتین کی تعلیم اور لیبر فورس میں شمولیت نہ صرف سماجی ترقی بلکہ معاشی استحکام کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ موسمیاتی خطرات کے حوالے سے انہوں نے سیلاب اور خشک سالی جیسے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے عالمی شراکت داری کی اہمیت پر زور دیا۔ وزیرِ خزانہ نے عالمی سطح پر درپیش خطرات، جن میں اجناس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، بیرونی قرضوں کا دباؤ اور سیاسی غیر یقینی صورتحال شامل ہیں، کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ہر حال میں اصلاحات کے سفر کو جاری رکھے گی۔ ان کے مطابق نظم و ضبط، پالیسی تسلسل اور عالمی تعاون ہی اس بہتتی ہوئی معیشت کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ سرمایہ کاری کے امکانات پر بات کرتے ہوئے سینیٹر محمد اورنگزیب نے زراعت، معدنیات و کان کنی اور ڈیجیٹل معیشت کو پاکستان کے مستقبل کے اہم ستون قرار دیا۔ انہوں نے بلوچستان میں ٹیتھیان کاپر بیلٹ کی بڑھتی ہوئی عالمی اہمیت، زرعی شعبے کی بے پناہ صلاحیت اور ڈیجیٹل معیشت میں ڈیٹا سینٹرز، مصنوعی ذہانت اور جدید سروسز کے فروغ کو روشن مواقع سے تعبیر کیا۔ انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی پاکستان کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے، اسی لیے ریگولیٹری نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے اور خاص طور پر امریکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔آخر میں وزیرِ خزانہ نے عالمی برادری کو ایک واضح اور پُرامید پیغام دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان تجارت، سرمایہ کاری اور شراکت داری کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ ان کے مطابق پاکستان اب بحرانوں کی کہانیوں سے نکل کر مواقع اور تبدیلی کے ایک نئے باب میں داخل ہو چکا ہے، جہاں پائیدار ترقی کے خواہاں افراد اور اداروں کے لیے روشن مستقبل کے دروازے کھل رہے ہیں۔







Discussion about this post