بھارت میں ہونے والے ایشیا ہاکی کپ 2025 میں پاکستان کی شرکت پر غیر یقینی کے بادل منڈلانے لگے ہیں۔ ہاکی انڈیا کے آفیشل نے بھارتی اخبار سے گفتگو میں دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن نے سیکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر بھارت سفر کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

ہاکی انڈیا کے مطابق، پاکستان ہاکی فیڈریشن نے ایشین ہاکی فیڈریشن (AHF) کو ایک خط لکھا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ وہ موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر بھارتی شہر راج گیر میں 29 اگست سے شروع ہونے والے ایشیا کپ میں شرکت سے قاصر ہیں۔ بھارتی آفیشل کا مزید کہنا تھا کہ بھارت کی حکومت پاکستانی ٹیم کو ویزے دینے پر رضامند تھی، اور پاکستان ٹیم کے ویزوں کی درخواست جولائی کے آخر میں دی گئی تھی۔ ہاکی انڈیا کے مطابق، اب پاکستان کی جگہ بنگلہ دیش کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ تاہم، اس دعوے کے برعکس بنگلہ دیش ہاکی فیڈریشن نے واضح کیا ہے کہ انہیں اب تک کسی قسم کا باضابطہ دعوت نامہ موصول نہیں ہوا۔ ذرائع کے مطابق، نہ ہاکی انڈیا اور نہ ہی ایشین ہاکی فیڈریشن کی جانب سے کوئی رسمی خط موصول ہوا ہے۔ بنگلہ دیشی ذرائع نے یہ بھی کہا کہ اتنی جلدی ٹیم تشکیل دینا اور تیاری کرنا آسان نہیں، اگر دعوت نامہ ملا تو اس پر غور کیا جائے گا۔

دوسری جانب، پاکستان ہاکی فیڈریشن (PHF) کے صدر طارق بگٹی نے ہاکی انڈیا کے تمام دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے ایشیا کپ میں شرکت سے انکار نہیں کیا۔ نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا:
"ہم نے نہ کبھی ہاکی انڈیا سے بات کی ہے، نہ اب کوئی رابطہ ہے۔ ہمارا رابطہ صرف ایشین ہاکی فیڈریشن سے ہوتا ہے۔ بھارت جانے یا نہ جانے کا فیصلہ حکومت پاکستان نے کرنا ہے، ہم حکومتی فیصلے کے منتظر ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی جگہ بنگلہ دیش کو دعوت دینے سے متعلق نہ ہمیں اطلاع دی گئی ہے، نہ ہی اس پر کوئی بات ہوئی ہے ایشیا ہاکی کپ 2025، 29 اگست سے 7 ستمبر تک بھارت کے شہر راج گیر میں شیڈول ہے۔ بھارتی میڈیا میں یہ دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ پاکستان کی عدم شرکت کی وجہ سے بنگلہ دیش کو مدعو کر لیا گیا ہے، لیکن بنگلہ دیشی حکام اور پاکستانی فیڈریشن دونوں اس کی تردید کر چکے ہیں۔ پاکستان کی شرکت کا حتمی فیصلہ تاحال حکومتی منظوری سے مشروط ہے۔ فی الحال ایشیا کپ میں پاکستان کی موجودگی پر سوالیہ نشان موجود ہے، اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ آئندہ چند روز میں حکومت پاکستان اس حوالے سے کیا فیصلہ کرتی ہے۔







Discussion about this post