ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس عاقب جاوید نے لاہور میں پریس کانفرنس کے ذریعے دل کی گہرائیوں سے نکلنے والے الفاظ کہے، جو نہ صرف حقیقت پسندانہ ہیں بلکہ قومی کرکٹ کی نئی سمت کی طرف ایک مضبوط اشارہ بھی۔ عاقب جاوید نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کے بارے میں کھل کر کہا: "ہم سے بہت بڑی امیدیں تھیں۔ ہم نے سوچا تھا کہ سیمی فائنل تک ضرور پہنچیں گے، شاید آگے بھی جائیں گےمگر ایسا نہ ہو سکا۔ ہم نے وہ پرفارمنس نہیں دکھائی جو دکھانی چاہیے تھی۔” یہ الفاظ محض افسوس نہیں، بلکہ ایک ایماندارانہ جائزہ ہیں کہ جہاں غلطی ہوئی، وہاں اسے تسلیم کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کوچ مائیک ہیسن کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 15 رکنی ٹیم میں تبدیلی نہ کرنے کا اعلان ہوا تھا، مگر سلیکشن کمیٹی خاموش تماشائی نہیں بن سکتی تھی۔ "ہماری سمجھ یہی تھی کہ کوچ کو بھی مکمل فری ہینڈ ملنا چاہیے جیسا کہ چیئرمین محسن نقوی نے بھی سلیکٹرز کو دیا ہے۔” یہ اعتماد اور آزادی کا خوبصورت امتزاج ہے جو اب پاکستانی کرکٹ کو نئی بلندیوں کی طرف لے جا سکتا ہے۔ عاقب نے واضح کیا کہ ورلڈ کپ کے لیے 20 کھلاڑی دیے گئے تھے، تاکہ کوچ اور کپتان بہترین کمبی نیشن خود منتخب کریں۔ "ایک ایونٹ کی بنیاد پر انٹرنیشنل ٹیم نہیں بن سکتی۔ ڈومیسٹک ٹورنامنٹس انٹرنیشنل سطح کے مطابق نہیں ہوتے۔ پلیئنگ الیون کا حتمی فیصلہ کوچ اور کپتان کا حق ہے، وہ گراؤنڈ پر لڑتے ہیں، وہ بہتر جانتے ہیں کہ کون کیوں نہیں کھیل سکتا۔” بابر اعظم اور فخر زمان کی انجریز پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دونوں ورلڈ کپ کے فوری بعد انجری کا شکار ہوئے، جو تشویش کی بات ہے۔ "تحقیقات کرائی جائیں گی کہ کیا یہ انجریز ایونٹ کے دوران ہوئیں؟ کیا فٹنس ٹیسٹ ٹھیک سے ہوئے تھے؟ ہمیں کوئی شوق نہیں کہ ہم بیٹھ کر 11 کھلاڑی منتخب کریں۔ یہ آزادی کوچ اور کپتان کو ملنی چاہیے۔”
انہوں نے پاکستان کرکٹ کے درد کو بھی چھواکہ "ہر ہار کے بعد یہی ہوتا ہے، سب بدل دو! چیئرمین بدلو، سلیکٹرز بدلو، کپتان بدلو۔ مگر ہم نے سب سے زیادہ تبدیلیاں کی ہیں، پھر بھی ڈیولپمنٹ نہیں ہو رہی۔ 2009 کے بعد ہماری ترقی رک گئی ہے۔ اب ہار ہوئی تو سب کو نکال دو یہ رویہ تبدیل ہونا چاہیے۔” بھارت کے خلاف 8-0 کے ریکارڈ پر انہوں نے کہا کہ "بھارت کا میچ الگ ہے، باقی مقابلوں میں ہم نے ایک میچ ہارا ہے۔ ایک میچ بارش میں دھل گیا اور سیمی فائنل سے باہر ہو گئے۔ اس پر سب کچھ ختم سمجھ لیتے ہیں۔” اب بنگلادیش سیریز میں نئے کھلاڑیوں کو موقع دینے کا سوچا جا چکا ہے۔







Discussion about this post