رکن قومی اسمبلی سیدہ آمنہ بتول کو فیفا کی انسٹی ٹیوشنل ریفارمز کمیٹی میں تعینات کیا گیا ہے، ۔ فیفا کی ریفارمز کمیٹی یہ طے کرتی ہے کہ عالمی فٹ بال ادارہ کس طرح اپنی ذمے داری ادا کرے گا ۔ اور اسے کس نوعیت کا کام کرنا ہے ساتھ ساتھ ممبر ایسوسی ایشنز اور دیگر فٹ بال سٹیک ہولڈرز کے ساتھ کس طرح تعامل کرتا ہے۔ سیدہ آمنہ بتول حکمران پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل این) پارٹی سے پاکستان کی قومی اسمبلی کی رکن ہیں۔ وہ وزیر اعظم کے یوتھ پروگرام کی فوکل پرسن بھی ہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ تعیناتی پاکستان کے لیے کھیلوں اور سفارتی دونوں شعبوں میں ایک اہم کامیابی ہے۔ بتول کی تعیناتی فیفا کے پاکستان کی ادارہ جاتی سمت اور عالمی فٹ بال گورننس میں اس کے تعمیری کردار پر نئے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ پیش رفت گزشتہ ماہ فیفا کے سینئر نائب صدر شیخ سلمان بن ابراہیم الخلیفہ کے پاکستان کے تین روزہ دورے کے بعد سامنے آئی ہے۔ فیفا کے عہدیدار نے اپنے دورے کے دوران پاکستانی فٹ بال ایگزیکٹوز اور سرکاری حکام کے ساتھ فٹ بال انفراسٹرکچر کی ترقی پر تبادلہ خیال کیا تھا۔

پاکستان کے فیفا کے ساتھ تعلقات حال ہی میں بہتر ہوئے ہیں، کیونکہ عالمی ادارے نے گزشتہ آٹھ ماہ میں پاکستان کو تین بار ممبر کے طور پر معطل کیا تھا۔ اس نے رواں سال فروری میں پاکستان کو آخری بار معطل کیا تھا جب پاکستان فٹ بال فیڈریشن (پی ایف ایف) نے اس کی الیکٹورل ریفارمز کو مسترد کر دیا تھا۔ فیفا نے ایک ماہ بعد مارچ میں معطلی ختم کر دی جب پی ایف ایف نے ایک غیر معمولی اجلاس میں فیفا کی تجویز کردہ آئینی ترامیم کو متفقہ طور پر منظور کر لیا۔ فٹ بال پاکستان کے نوجوانوں میں طویل عرصے سے مقبول رہا ہے لیکن حالیہ برسوں میں بین الاقوامی لیگوں میں بڑھتی دلچسپی کے درمیان گراس روٹ سطح پر شرکت میں اضافہ ہوا ہے۔ بڑے شہروں میں مقامی ٹورنامنٹس، سکولی مقابلے اور کمیونٹی کلبوں نے کھیل کے لیے جوش و خروش کو مزید بھڑکایا ہے۔







Discussion about this post