پیپلز پارٹی نے آزاد کشمیر کے وزیر اعظم کے عہدے کے لیے فیصل راٹھور کو باضابطہ طور پر نامزد کر دیا ہے۔ پریس کانفرنس میں پارٹی کے سینیئر رہنما راجہ پرویز اشرف نے اعلان کیا کہ پیپلز پارٹی کے پاس مکمل اراکین موجود ہیں اور وہ آزاد کشمیر میں حکومت بنانے کے لیے پُرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی نے ہمیشہ مسئلہ کشمیر کو ترجیح دی ہے اور عوامی مفادات کے تحفظ کے لیے بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ ادھر وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوار الحق کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد سیکرٹریٹ میں جمع کروا دی گئی ہے، اور اس تحریک کے ساتھ فیصل راٹھور کا نام وزارت عظمیٰ کے لیے متبادل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ فیصل ممتاز راٹھور آزاد کشمیر کی ضلع حویلی سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے والد بھی پیپلز پارٹی کے سرگرم رہنما رہے ہیں۔تحریکِ عدم اعتماد آئین کے مطابق اسمبلی کے کل اراکین کی 25 فیصد تعداد کے دستخطوں کے ساتھ جمع کروائی گئی ہے۔

سیکرٹری اسمبلی جتنا جلد ممکن ہو ایک نقل صدر اور دیگر اراکین کو نوٹس فراہم کریں گے، اور تحریک جمع ہونے کے تین دن بعد، لیکن سات دن کے اندر، اسے فہرستِ کارروائی میں شامل کرنا لازمی ہے۔ اس کے بعد اسپیکر اسمبلی آئین کے آرٹیکل 18 کے تحت رائے شماری کے لیے دن مقرر کریں گے۔ مقررہ دن پر اسمبلی اجلاس اس وقت تک ملتوی نہیں ہو سکتا جب تک قرارداد پر ووٹنگ نہ ہو جائے۔ اگر تحریک عدم اعتماد کامیاب نہ ہو سکی تو آئندہ چھ ماہ تک دوبارہ اسی نوعیت کی تحریک نہیں لائی جا سکتی۔ اسی دوران وزیر اعظم آزاد کشمیر کو یہ اختیار بھی حاصل نہیں کہ وہ اسمبلی تحلیل کر دیں، کیونکہ تحریک پہلے ہی جمع ہو چکی ہے۔یہ سیاسی پیش رفت آزاد کشمیر کی سیاست میں ایک نیا موڑ ہے، اور فیصل راٹھور کی نامزدگی کے بعد پیپلز پارٹی کے لیے حکومت سازی کی راہیں مزید واضح ہو گئی ہیں۔







Discussion about this post