امریکہ میں ایئرپورٹس پر سکیورٹی چیکنگ کے دوران مسافروں کو اب جوتے اتارنے کی ضرورت نہیں ہوگی، ایک ایسا عمل جو گزشتہ دو دہائیوں سے لازمی قرار دیا گیا تھا۔ خبر رساں ادارے "اے پی” کے مطابق، ہوم لینڈ سکیورٹی کی سیکریٹری کرسٹی نوئم نے اعلان کیا ہے کہ 20 سال سے نافذ اس عمل کو فوری طور پر ختم کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نیا پائلٹ پروگرام جدید ٹیکنالوجی پر مبنی ہے، جس کے ذریعے بغیر جوتے اتارے بھی مکمل سکیورٹی چیک ممکن ہو سکے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ:
"اب مسافروں کو سکیورٹی چیک پوائنٹس پر جوتے اتارنے کی ضرورت نہیں ہوگی، تاہم اگر کسی خاص صورتحال میں مزید جانچ ضروری ہوئی تو مخصوص افراد کو جوتے اتارنے کا کہا جا سکتا ہے۔”
جوتے اتارنے کی شرط کیوں لگائی گئی تھی؟
2001 میں رچرڈ ریڈ نامی ایک شخص نے پیرس سے میامی جانے والی پرواز میں جوتوں میں بم چھپا کر حملہ کرنے کی کوشش کی تھی، جو ناکام بنا دی گئی۔ اس واقعے کے بعد 2006 میں 12 سے 75 سال کے درمیان عمر کے تمام مسافروں کے لیے جوتے اتارنا لازمی قرار دیا گیا تھا۔ نائن الیون کے حملوں کے بعد اُس وقت کے صدر جارج ڈبلیو بش نے ٹرانسپورٹ سکیورٹی ایجنسی (TSA) کے قیام کا اعلان کیا، جس کا مقصد اندرونِ ملک اور بین الاقوامی پروازوں میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کو یقینی بنانا تھا۔
سکیورٹی میں بہتری کے لیے TSA نے چہرے کی شناخت، اصل آئی ڈی چیکنگ اور دیگر اقدامات متعارف کرائے، تاہم یہ عمل مسافروں کے لیے پریشانی کا باعث بنتا رہا۔
رواں سال اپریل میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹرانسپورٹیشن سیکریٹری سین ڈفی نے سوشل میڈیا پر عوام سے پوچھا کہ سفر کو مزید آسان بنانے کے لیے کیا اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ اگلے ہی دن انہوں نے پوسٹ کی کہ TSA سے متعلق شکایات سب سے زیادہ موصول ہو رہی ہیں، جس پر وہ ہوم لینڈ سکیورٹی کی سیکریٹری سے بات کریں گے۔
صدر ٹرمپ نے جنوری 2025 میں TSA کے سربراہ ڈیوڈ پیکوسک کو عہدے سے برطرف کر دیا، حالانکہ ان کی تقرری بھی ٹرمپ نے ہی اپنے پہلے دورِ صدارت میں کی تھی۔ برطرفی کی کوئی واضح وجہ نہیں بتائی گئی، اور اس وقت TSA کی ویب سائٹ کے مطابق ادارہ قائم مقام قیادت کے تحت کام کر رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ جدید ٹیکنالوجی کی بدولت ممکن ہوا ہے، جو خطرناک اشیاء کو بغیر جوتے اتارے بھی اسکین کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اگر یہ پائلٹ پروگرام کامیاب رہا تو مستقبل میں مزید سکیورٹی اقدامات میں انسانی مداخلت کم ہو سکتی ہے، اور مسافروں کے لیے سفری تجربہ مزید آسان ہو جائے گا۔







Discussion about this post