وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد ایئرپورٹ کے دورے کے بعد واضح کیا ہے کہ جن مسافروں کے پاس مکمل اور مستند سفری دستاویزات موجود ہوں، انہیں بیرونِ ملک سفر سے روکنے کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ یہ اعلان ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب حالیہ مہینوں میں مختلف ایئرپورٹس پر متعدد افراد کو درست کاغذات کے باوجود پروازوں سے اتارنے کے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں، جو گزشتہ سال یونان کشتی حادثے کے بعد انسانی اسمگلنگ کے خلاف جاری کریک ڈاؤن سے جوڑے جا رہے ہیں۔ محسن نقوی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بتایا کہ انہوں نے ایئرپورٹ پر مسافروں سے براہِ راست ملاقات کی اور ان کے مسائل سنے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ جعلی ویزوں کے ذریعے سادہ لوح افراد کا استحصال کرنے والے ایجنٹس کے خلاف بھرپور اور بے رحم کارروائی کی جائے گی۔ وزیرِ داخلہ نے یہ بھی بتایا کہ ایک مسافر کی جانب سے 7 نومبر کو کم اسٹافنگ کی شکایت پر فوری انکوائری کا حکم دے دیا گیا ہے اور اس سلسلے میں سی سی ٹی وی فوٹیج کا تفصیلی جائزہ لینے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
Visited Islamabad Airport today and met passengers travelling abroad to hear their concerns directly.
Ordered a strict crackdown against visa agents exploiting innocent people. Took serious notice of a passenger’s 7 November complaint about low staffing at immigration and… pic.twitter.com/dP29uZw2bB
— Mohsin Naqvi (@MohsinnaqviC42) November 29, 2025
انہوں نے اس بات پر سخت زور دیا کہ باقاعدہ اور مکمل دستاویزات کے حامل مسافروں کو کسی بھی صورت روکا نہیں جائے گا، تاہم جعلی، مشکوک یا غیرتصدیق شدہ دستاویزات کے حامل افراد کو سفر کی اجازت دینا ممکن نہیں کیونکہ اس سے نہ صرف ملک کی ساکھ متاثر ہوتی ہے بلکہ انسانی اسمگلنگ جیسے جرائم کو بھی تقویت ملتی ہے۔ محسن نقوی نے اعلان کیا کہ لوگوں کے خواب اور مستقبل بیچ کر پیسہ کمانے والے ایجنٹ مافیا کے لیے صفر برداشت کی پالیسی اختیار کی جائے گی۔ گزشتہ جمعرات کو ایف آئی اے نے بھی وضاحت کی تھی کہ مسافروں کو صرف اسی صورت پرواز سے روکا جاتا ہے جب کاغذات میں مسئلہ ہو یا شبہ ہو کہ کوئی شخص انسانی اسمگلروں کے ساتھ مل کر بیرونِ ملک جانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسی روز ایف آئی اے نے سوشل میڈیا پر مسافروں کو آف لوڈ کیے جانے سے متعلق گمراہ کن معلومات پھیلانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز بھی کیا تھا۔







Discussion about this post