دنیا بھر کی فضاؤں میں ہفتے کے اختتام سے قبل غیر معمولی خاموشی چھا گئی، جب درجنوں عالمی ایئرلائنز نے اچانک اپنی متعدد پروازیں منسوخ کر دیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اس غیر متوقع اقدام کی وجہ ایک خطرناک تکنیکی خدشہ قرار دیا جا رہا ہے، جس کا آغاز گزشتہ ماہ 30 اکتوبر کو امریکی ایئرلائن جیٹ بلیو کے ایک طیارے میں دورانِ پرواز رفتار میں غیر معمولی کمی سے ہوا، جس کے باعث طیارہ بتدریج نیچے کی جانب آنے لگا۔ ماہرین کے مطابق یہ مسئلہ وسیع پیمانے پر استعمال ہونے والے مسافر طیاروں کے سافٹ ویئر سے جڑا ہو سکتا ہے۔ یورپی ہوابازی کمپنی ایئربس نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ شدید شمسی تابکاری اس کے اے 320 فیملی طیاروں کے فلائٹ کنٹرول سسٹم میں موجود اہم ڈیٹا کو متاثر کر سکتی ہے، جس سے پرواز کے نظام میں خلل پیدا ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ اسی خدشے کے پیش نظر یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی (ای اے ایس اے) نے اے 320 طیارے استعمال کرنے والی ایئرلائنز کے لیے فوری ہدایات جاری کرتے ہوئے مسئلے کے حل کو لازمی قرار دے دیا۔ ایجنسی نے خبردار کیا ہے کہ اس عمل کے دوران پروازوں کے شیڈول میں عارضی خلل پیدا ہو سکتا ہے۔ یہ تکنیکی مسئلہ طیارے کے آن بورڈ کمپیوٹرز میں کیے گئے حالیہ سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کے بعد سامنے آیا، اور اتفاق سے یہی وہ وقت ہے جب امریکا میں تھینکس گیونگ کی تعطیلات کے بعد لاکھوں مسافر واپسی کے سفر پر نکلتے ہیں جو سال کا سب سے مصروف سفری دور تصور کیا جاتا ہے۔ جاپان کی بڑی ایئرلائن آل نپون ایئرویز نے، جو اے 320 سیریز کے تیس سے زائد طیارے چلاتی ہے، ہفتے کے روز 65 ملکی پروازیں منسوخ کر دیں۔ امریکن ایئرلائنز نے بتایا کہ اس کے پاس اے 320 فیملی کے تقریباً 480 طیارے ہیں، جن میں سے 209 ممکنہ طور پر متاثر ہو سکتے ہیں۔ تاہم کمپنی کا کہنا ہے کہ زیادہ تر طیاروں میں خرابی کا حل قریب دو گھنٹوں میں مکمل ہو جائے گا اور منسوخی کو کم سے کم رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے، کیونکہ مسافروں کی حفاظت ان کی اولین ترجیح ہے۔ ڈیلٹا ایئرلائن نے واضح کیا کہ اس کا 50 سے کم اے 321 نیو طیاروں پر اثر پڑ سکتا ہے، جبکہ یونائیٹڈ ایئرلائنز کے مطابق اس کے صرف چھ طیارے متاثر ہیں اور محض معمولی تاخیر متوقع ہے۔

ہوائیئن ایئرلائنز نے اطمینان دلایا کہ اس کی پروازیں اس صورتحال سے محفوظ رہیں گی۔ جرمن ایئرلائن کے مطابق اس کے کچھ طیاروں کی مرمت میں کئی گھنٹے لگ سکتے ہیں، جس کے باعث ہفتے کے آخر میں چند پروازیں منسوخ یا تاخیر کا شکار ہو سکتی ہیں۔ کولمبیا کی ایئرلائن ایویانکا نے بتایا کہ اس کے بیڑے کا 70 فیصد سے زائد حصہ اس مسئلے سے متاثر ہوا ہے، اور آئندہ 10 دنوں میں نمایاں آپریشنل خلل متوقع ہے۔ اسی وجہ سے ایئرلائن نے 8 دسمبر تک نئی ٹکٹوں کی فروخت روک دی ہے۔ برٹش ایئرویز کے مطابق اس کی مختصر فاصلے کی پروازوں میں استعمال ہونے والے تین طیارے متاثر ہیں، مگر کسی بڑے خلل کا امکان نہیں۔ ایئر فرانس نے احتیاطاً ایئربس کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے 35 پروازیں منسوخ کر دی ہیں، جبکہ ایئر نیوزی لینڈ نے اعلان کیا ہے کہ اس کے تمام اے 320 نیو طیاروں کو اگلی پرواز سے پہلے اپ ڈیٹ کیا جائے گا، جس کے باعث کچھ سروسز متاثر یا منسوخ ہو سکتی ہیں۔ ایروڈائنامک ایڈوائزری کے ہوابازی کے ماہر مائیک اسٹینگل کے مطابق اس مسئلے کو پروازوں کے درمیان یا رات کے وقت روٹین چیکنگ کے دوران حل کیا جا سکتا ہے، جس سے خطرے کی شدت کم ہو جاتی ہے۔ دوسری جانب پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن کے ترجمان نے عوام کو مکمل اطمینان دلاتے ہوئے کہا ہے کہ پی آئی اے کے طیارے اس خطرے سے محفوظ ہیں، کیونکہ ان میں تاحال وہ نیا سافٹ ویئر اپ ڈیٹ نصب ہی نہیں کیا گیا جس سے مسئلہ پیدا ہوا ہے۔ ترجمان کے مطابق ایئربس کی جانب سے جاری کردہ پیچ نمبر 104 میں خرابی سامنے آئی ہے اور ہدایت جاری کی گئی ہے کہ تمام ایئرلائنز پرانا ورژن دوبارہ لوڈ کریں، جبکہ پی آئی اے کے کسی بھی طیارے میں یہ نیا ورژن سرے سے موجود ہی نہیں, لہٰذا تمام قومی طیارے محفوظ ہیں اور معمول کے مطابق آپریٹ کر رہے ہیں۔ یہ پیش رفت ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے دور میں احتیاط، بروقت نگرانی اور درست فیصلے ہی ہوابازی کو محفوظ اور قابلِ اعتماد بنا سکتے ہیں۔







Discussion about this post