آسٹریلیا میں سڈنی کے معروف بونڈائی ساحل پر ہونے والے خونریز حملے کے دوران جانوں کی ڈھال بننے والے احمد ال احمد کے نام انسانیت نے ایک یادگار خراجِ تحسین رقم کر دیا۔ ان کے لیے قائم کیے گئے فنڈ میں جمع ہونے والے 25 لاکھ آسٹریلین ڈالر کا چیک جمعرات کے روز باقاعدہ طور پر احمد کے حوالے کر دیا گیا۔ یہ دل دہلا دینے والا واقعہ 14 دسمبر کو یہودی مذہبی تہوار ہنوکا کے موقع پر پیش آیا، جب ساحل سمندر پر منعقدہ تقریب کے دوران 50 سالہ ساجد اکرم اور ان کے 24 سالہ بیٹے نوید نے اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ اس ہولناک حملے میں 15 افراد جان سے گئے جبکہ درجنوں زخمی ہو گئے، اور ساحل خوشیوں سے خوف کی علامت بن گیا۔ اسی واقعے سے جڑی ایک ویڈیو نے دنیا بھر میں توجہ حاصل کی، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ احمد ال احمد کس جرات مندی سے ایک مسلح حملہ آور کے سامنے کھڑے ہوئے، اسے قابو میں لیا اور غیر مسلح کر دیا۔ ان کے اس بروقت اقدام نے کئی قیمتی جانیں بچا لیں اور وہ لمحہ تاریخ میں حوصلے کی علامت بن گیا۔ حملے میں زخمی ہونے والے احمد اس وقت اسپتال میں زیر علاج ہیں، مگر پورا ملک انہیں ایک قومی ہیرو کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ ان کی بہادری کو سراہتے ہوئے دنیا بھر سے 43 ہزار سے زائد افراد نے عطیات دیے، جن کی مجموعی رقم 25 لاکھ آسٹریلین ڈالر تک جا پہنچی۔

خبر رساں ادارے کے مطابق یہ چیک کینیڈا کے معروف سوشل میڈیا انفلوئنسر اور GoFundMe مہم کے شریک منتظم زیکری ڈیرینیووسکی نے احمد کو پیش کیا۔ اس مہم میں امریکی ارب پتی بل ایکمین، ہالی ووڈ اداکارہ ایمی شومر اور آسٹریلوی گلوکار کڈ لیرائی سمیت ہزاروں افراد نے دل کھول کر حصہ لیا۔ اسپتال سے جاری کی گئی ویڈیو میں جب احمد کو یہ چیک دیا گیا تو انہوں نے سادگی اور حیرت سے سوال کیا، ’’کیا میں واقعی اس کا حقدار ہوں؟‘‘ اس پر ڈیرینیووسکی نے مسکراتے ہوئے جواب دیا، ’’ہر ایک پینی کے۔‘‘ یہ لمحہ دیکھنے والوں کے لیے جذباتی بن گیا۔ چند روز قبل آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانیز نے بھی ایک پریس کانفرنس میں احمد کی جرات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ایک آسٹریلوی ہیرو ہیں جنہوں نے خطرے کی طرف بڑھ کر دوسروں کی جانیں بچائیں۔دوسری جانب، حملے کی تحقیقات کے سلسلے میں پولیس نے سڈنی کے جنوب مغربی علاقے سے سات افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ نیو ساوتھ ویلز پولیس کے ڈپٹی کمشنر ڈیو ہیڈسن کے مطابق ان افراد اور بونڈائی حملے کے ذمہ داروں کے درمیان فی الحال کوئی براہِ راست تعلق ثابت نہیں ہو سکا، البتہ بعض نظریاتی مماثلتیں ضرور سامنے آئی ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں، تاہم یہ بات سامنے آئی ہے کہ گرفتار گروہ کا بونڈائی جانے کا ارادہ تھا۔ تفتیش جاری ہے اور حکام ہر پہلو سے حقائق جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔







Discussion about this post