امریکی حکومت نے افغان طالبان کے خلاف ایک سخت اور فیصلہ کن قدم اٹھاتے ہوئے افغانستان کو "اسٹیٹ اسپانسر آف رانگ فل ڈیٹینشن” یعنی ناجائز حراست کی سرپرستی کرنے والی ریاست قرار دے دیا ہے، جو ایک ایسی تاریخی تنبیہ ہے جو دنیا کو واضح پیغام دے رہی ہے کہ امریکا اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے کسی رعایت سے گریز نہیں کرے گا۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اپنے پرجوش بیان میں اعلان کیا کہ آج وہ افغانستان کو باضابطہ طور پر اس فہرست میں شامل کر رہے ہیں جہاں لوگوں کو غلط اور ظالمانہ طریقے سے قید رکھا جا رہا ہے، اور یہ اقدام طالبان کی غاصبانہ پالیسیوں کے خلاف ایک طوفان کی مانند ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ طالبان اب بھی دہشت گردانہ حربوں کا استعمال کر رہے ہیں، لوگوں کو اغوا کر کے تاوان یا سیاسی رعایتیں حاصل کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں، مگر یہ گھٹیا طریقے کسی بھی صورت کامیاب نہیں ہوں گے۔ روبیو نے زور دے کر کہا کہ طالبان کے یہ اقدامات عالمی برادری کا دباؤ مزید شدید کر رہے ہیں، اور امریکا اسے برداشت نہیں کرے گا۔
Today, I am designating Afghanistan as a State Sponsor of Wrongful Detention. The Taliban continue to use terrorist tactics to seek policy concessions, but it won’t work under this administration. The Taliban must release Dennis Coyle, Mahmood Habibi, and all Americans unjustly…
— Secretary Marco Rubio (@SecRubio) March 9, 2026
انہوں نے فوری مطالبہ کیا کہ طالبان حکومت ڈینس کوائل اور محمود حبیبی سمیت افغانستان میں قید تمام امریکی شہریوں کو بلا تاخیر رہا کرے، کیونکہ یہ لوگ بے گناہ ہیں اور ان کی حراست ایک کھلا ظلم ہے۔ وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ امریکا اپنے شہریوں کی رہائی کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے، اور طالبان پر دباؤ کی یہ زنجیر کبھی ٹوٹنے نہیں دی جائے گی جب تک ہر امریکی آزاد نہیں ہو جاتا۔ یہ فیصلہ نہ صرف پابندیاں اور سفارتی دباؤ کا دروازہ کھولتا ہے بلکہ یہ ایک واضح انتباہ ہے کہ "ہوسٹیج ڈپلومیسی” کا دور اب ختم ہو چکا ہے، اور امریکا اپنے لوگوں کی عزت و سلامتی کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔







Discussion about this post