امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے افغانستان میں مسلسل بگڑتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال اور شدت پسندی کے بڑھتے خدشات کے پیشِ نظر افغان شہریوں کے لیے امیگریشن قوانین کو مزید سخت کر دیا ہے، جس سے ہزاروں متاثرہ افراد کی امیدیں ایک بار پھر دھندلا گئی ہیں۔ امریکی اخبار دی واشنگٹن پوسٹ کے مطابق نئے صدارتی حکم نامے کے تحت افغان اسپیشل امیگرنٹ ویزا سے وابستہ حفاظتی استثنیٰ ختم کر دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں وہ مترجمین اور دیگر افغان شہری بھی اس سہولت سے محروم ہو گئے ہیں جو برسوں تک امریکی اداروں کے ساتھ کام کرتے رہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ افغانستان کو ان ممالک کی فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے جن پر مکمل سفری پابندیاں عائد ہیں، جبکہ امیگریشن کے موجودہ راستوں کو بھی مزید محدود کر دیا گیا ہے، جس سے قانونی آمد کے امکانات نہایت کم ہو چکے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کا مؤقف ہے کہ یہ فیصلہ سخت اسکریننگ، معلومات کے ناکافی تبادلے اور قومی سلامتی سے جڑے خدشات کے باعث کیا گیا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق حالیہ ایک سنگین واقعے کے بعد ان پابندیوں میں مزید سختی کی گئی، جس میں ایک افغان نژاد فرد پر سنگین جرائم کے الزامات سامنے آئے۔

اسی پس منظر میں امریکی حکام نے افغان شہریوں کی امیگریشن، شہریت اور گرین کارڈ سے متعلق درخواستوں پر بھی عارضی قدغنیں عائد کر دی ہیں، جس سے پہلے ہی غیر یقینی کا شکار افغان برادری کو مزید مشکلات کا سامنا ہے۔ یہ رجحان صرف امریکا تک محدود نہیں رہا، بلکہ عالمی سطح پر بھی افغان شہریوں کے حوالے سے احتیاط میں واضح اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں جرمنی نے اپنا پناہ گزین پروگرام معطل کیا، برطانیہ نے سخت ٹریول ایڈوائزری جاری کی، جبکہ آسٹریلیا نے بھی افغان شہریوں کے لیے پابندیوں میں اضافے اور سفارتی اقدامات کے اشارے دیے ہیں۔ ان فیصلوں نے ایک بار پھر افغان شہریوں کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔







Discussion about this post