جرمن حکومت نے افغان پناہ گزینوں کی آبادکاری سے متعلق پروگرام فوری طور پر ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں سیکڑوں افغان شہریوں کے جرمنی منتقل ہونے کے امکانات یکسر ختم ہو گئے ہیں۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ فیصلہ افغان مہاجرین کے جرائم میں مبینہ ملوث ہونے، بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خدشات اور بدلتی ہوئی سیاسی ترجیحات کے تناظر میں کیا گیا ہے۔ جرمنی کی وزارتِ داخلہ نے تصدیق کی ہے کہ افغان مہاجرین کے داخلے سے متعلق اب کوئی راستہ باقی نہیں رہا۔ اس فیصلے کے تحت 640 افغان شہریوں کو جرمنی میں داخل ہونے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا ہے، جن میں بڑی تعداد ان افراد کی ہے جو پاکستان میں جرمن منتقلی کے منتظر تھے۔

جرمن نشریاتی اداروں کے مطابق افغان آبادکاری پروگرام سے متعلق ماضی میں کیے گئے تمام وعدے اور ضمانتیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ جرمن وزارتِ داخلہ کی ترجمان سونیا کوک کا کہنا ہے کہ جن افغان شہریوں کو پہلے آبادکاری کا وعدہ دیا گیا تھا، انہیں جلد آگاہ کر دیا جائے گا کہ اب ان کی پذیرائی میں کوئی سیاسی دلچسپی باقی نہیں رہی۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ مہاجرت سے متعلق پالیسیوں میں وسیع تر تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ اقدام جرمنی کی حکمران اتحادی جماعتوں قدامت پسند جماعتوں اور سوشل ڈیموکریٹس کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے بعد سامنے آیا ہے، جس کے تحت افغان آبادکاری پروگراموں کو ممکنہ حد تک ختم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ چانسلر فریڈرک میرز نے افغان مہاجرین سے منسلک جرائم اور سنگین سیکیورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے سخت مہاجرتی کنٹرولز کی حمایت کی ہے، جسے سابقہ حکومت کی پالیسیوں سے واضح انحراف قرار دیا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ دو ہزار اکیس میں طالبان کے افغانستان میں اقتدار سنبھالنے کے بعد جرمنی نے خواتین کے حقوق کی کارکنان، وکلا، صحافیوں اور سیاسی مخالفین سمیت کمزور افغان شہریوں کو پناہ دینے کا وعدہ کیا تھا۔ یہ وعدے نام نہاد انسانی حقوق فہرست اور عبوری فہرست کے تحت کیے گئے تھے، تاہم بعد ازاں وزیرِ داخلہ الیگزینڈر ڈوبرِنٹ نے انہیں سابقہ حکومت کی وراثت قرار دیتے ہوئے واپس لے لیا۔ اس فیصلے سے جرمن وزارتوں کے لیے کام کرنے والے افغان مقامی عملے پر بھی براہِ راست اثر پڑا ہے۔

ایک امدادی تنظیم کے مطابق تقریباً 130 سابق مقامی ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ای میل کے ذریعے مطلع کیا گیا کہ انہیں اب جرمنی میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ جرمن ترقیاتی ادارے کی جانب سے بھیجے گئے پیغام میں کہا گیا کہ رہائشی قانون کے تحت جرمنی میں داخلے کی کوئی بنیاد موجود نہیں۔ سونیا کوک کے مطابق باقی ماندہ 220 مقامی ملازمین میں سے صرف 90 افراد ہی اب داخلے کے حق کا دعویٰ کر سکتے ہیں۔ وزیرِ داخلہ ڈوبرِنٹ کا کہنا ہے کہ جہاں قانونی طور پر لازم ہو گا، وہاں جرمنی اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گا، تاہم ہر داخلہ سخت سیکیورٹی جانچ سے مشروط ہوگا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد اپریل 2025 تک جرمنی نے تقریباً چار ہزار افغان مقامی ملازمین اور پندرہ ہزار کے قریب ان کے اہلِ خانہ کو قبول کیا۔ اس کے باوجود پاکستان میں موجود سینکڑوں افغان شہری اب شدید غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔ پاکستانی حکام کی جانب سے سال کے اختتام تک جرمن گیسٹ ہاؤسز میں مقیم افغانوں کے مستقبل سے متعلق سخت بیانات کے باعث خدشات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ اگرچہ حالیہ مہینوں میں سینکڑوں افغان منتقل کیے جا چکے ہیں، تاہم تقریباً ایک ہزار افراد اب بھی انتظار کی کیفیت میں ہیں، جن سے چوتھے آبادکاری پروگرام کے تحت منتقلی کے وعدے کیے گئے تھے۔ امدادی تنظیموں کے مطابق اب افغان شہریوں کے لیے واحد راستہ عدالتی چارہ جوئی رہ گیا ہے۔ اب تک 84 مقدمات میں افغان شہری کامیاب ہو چکے ہیں، 195 کیسز زیرِ سماعت ہیں جبکہ درجنوں مزید تیاری کے مرحلے میں ہیں۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا یہ قانونی کارروائیاں سال کے اختتام سے پہلے مکمل ہو سکیں گی یا نہیں، جس نے متاثرہ خاندانوں کے اضطراب کو مزید بڑھا دیا ہے۔







Discussion about this post