استنبول میں ہونے والی بات چیت کسی معاہدے کے بغیر ٹوٹ گئی؛ مذاکرات کار اس بار سرحد پار دہشت گردی کی نگرانی اور روک تھام کے طریقہ کار پر اختلافات دور نہ کر سکے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے واضح انداز میں کہا کہ مذاکرات ختم ہو چکے ہیں اور معاملہ غیر معینہ مدت تک معطل ہو گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان کا وفد استنبول آیا مگر کسی تحریری معاہدے پر دستخط کے لیے سنجیدہ نہیں تھا، جو مذاکراتی عمل کے تانے بانے کو کمزور کر گیا۔ایک سینیئر سیکیورٹی ذریعے نے بھی تصدیق کی کہ استنبول میں مذاکرات بند گلی میں پہنچ گئے ہیں اور حالات غیر حتمی نوعیت کے ہیں۔ دونوں فریقوں کے درمیان ایک کمزور لیکن موجودہ جنگ بندی اب بھی قائم ہے، تاہم وزیر دفاع نے خبردار کیا کہ جنگ بندی کی خلاف ورزی پر بھرپور جواب دیا جائے گا۔ خواجہ آصف نے زور دے کر کہا کہ پاکستان کا واحد لازمی مطالبہ یہ ہے کہ افغان سرزمین سے حملوں کا سلسلہ روکا جائے یہی ہماری قومی سلامتی کی ضروری شرط ہے۔ تازہ دورِ مذاکرات جمعرات کو شروع ہوا اور یہ دو روز تک جاری رہا، جس میں پاکستان کی قیادت آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک کر رہے تھے۔ افغان وفد کی قیادت جی ڈی آئی کے سربراہ عبدالحق واثق نے کی، جب کہ سہیل شاہین، انس حقانی اور نائب وزیر داخلہ رحمت نجیب بھی وہاں شامل تھے۔

رپورٹس کے مطابق مذاکرات ناکام ہونے کے بعد پاکستانی وفد ہوٹل چھوڑ کر ایئرپورٹ روانہ ہو گیا، اور دونوں فریقین کے درمیان براہِ راست ملاقات کا دورانیہ نہ ہوسکا۔ اس سے پہلے قطر اور ترکی کے ثالثوں کی موجودگی میں فریقین نے آمنے سامنے بات چیت کی تھی، مگر حتمی اتفاق نہ ہو سکا۔ کچھ پاکستانی عہدیدار استنبول پر ہی موجود رہے تا کہ تعطل کو توڑا جا سکے؛ ثالث مختلف نشستوں کے ذریعے افغان وفد کو پاکستان کے خدشات پہنچاتے رہے۔ دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستانی وفد نے شواہد پر مبنی، جائز اور منطقی مطالبات پیش کیے جن کا مقصد محض سرحد پار دہشت گردی کا خاتمہ تھا۔ دورِ مذاکرات کا آغاز اکتوبر میں پیش آنے والی سرحدی جھڑپوں کے بعد ہوا تھا، جن میں دونوں جانب فوجی اور شہری ہلاک ہوئے تھے، اور اس کے بعد ترکی اور قطر نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔ دوحہ میں پہلے دور نے ایک کمزور جنگ بندی قائم کی، جبکہ دوسرے دور میں نگرانی کے طریقہ کار پر عمومی اتفاق ہوا اور بات چیت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اس دورِ مذاکرات کا مقصد انہی نگرانی اور تصدیقی طریقہ کار کو حتمی شکل دینا تھا، مگر استنبول میں یہ عمل نتیجہ خیز ثابت نہ ہوا۔ افغان فریق نے اپنی تجاویز کو منطقی اور عمل درآمد کے قابل قرار دیا، جبکہ اسلام آباد کے مطالبات کو غیر حقیقی اور جارحانہ قرار دے کر تنقید کی۔ وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ اور دفترِ خارجہ کے ترجمان نے یکساں الفاظ میں کہا کہ اگر مذاکرات ناکام رہے تو پاکستان اپنی عوام اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے تمام ضروری آپشنز استعمال کرنے پر مجبور ہوگا۔ مختصر یہ کہ استنبول میں امن مذاکرات ایک موڑ پر رک گئے ہیں؛ جنگ بندی تو فی الوقت برقرار ہے مگر اعتماد کی سطح کمزور ہے، اور اگلا قدم اس خطے کی سلامتی کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔







Discussion about this post