حکومتِ پاکستان نے جنوب مغربی علاقوں میں مقیم افغان شہریوں کو ملک چھوڑنے کی تازہ ہدایات جاری کر دی ہیں۔ ان احکامات کے بعد ایک بار پھر ہزاروں افراد سرحدوں کی جانب روانہ ہو چکے ہیں۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق وزارت داخلہ کی جانب سے ایک نئی مہم کا آغاز کیا گیا ہے، جس کا مقصد تمام افغان شہریوں کی باعزت، منظم اور مرحلہ وار واپسی کو یقینی بنانا ہے۔ چمن بارڈر پر صورتحال دن بہ دن سنگین ہوتی جا رہی ہے۔ چمن کے ایک سینئر افسر حبیب بنگلزئی کے مطابق، صرف جمعے کے روز تقریباً 4 سے 5 ہزار افغان باشندے اپنی باری کے انتظار میں سرحد پر موجود تھے۔ اس کے ساتھ افغانستان کے قندھار صوبے میں افغان پناہ گزینوں کی رجسٹریشن کے سربراہ عبداللطیف حکیمی نے بھی افغانوں کی واپسی کی بڑھتی ہوئی لہر کی تصدیق کی۔
چالیس سالہ مہاجرت کا اختتام؟
افغان سرزمین پر چار دہائیوں سے جاری جنگ و جدل اور سیاسی بحران نے لاکھوں افغانوں کو ہجرت پر مجبور کیا۔ پاکستان نے ہمیشہ ہمسایہ اسلامی برادر ملک کے شہریوں کو پناہ دی، بالخصوص 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد ایک نئی لہر نے سرحدوں کا رخ کیا۔

تاہم، 2023 میں پاکستان نے ایک بڑی پالیسی تبدیلی کرتے ہوئے غیر قانونی اور عارضی رہائشی افغانوں کی واپسی کی مہم کا آغاز کیا، جو اپریل 2025 میں دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔ حکومت نے رہائشی اجازت نامے منسوخ کرتے ہوئے خبردار کیا کہ مہاجرین رضاکارانہ طور پر واپس نہ گئے تو گرفتار کیے جائیں گے۔ پاکستانی سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ سرحدی علاقوں، خاص طور پر خیبر پختونخوا اور بلوچستان، میں شدت پسندوں کی کارروائیوں میں افغان عناصر کے ملوث ہونے کے شواہد موجود ہیں۔ 2024 پاکستان کے لیے دہشت گردی کے حوالے سے گزشتہ دہائی کا خونریز ترین سال رہا۔ اسی پس منظر میں عوامی سطح پر افغان مہاجرین کے خلاف جذبات میں اضافہ ہوا ہے، جسے سیکیورٹی خدشات اور معاشی دباؤ مزید جلا بخش رہے ہیں۔
علاقائی رجحانات اور ایران کی پالیسی
پاکستان کے علاوہ ایران نے بھی افغانوں کی واپسی کا ایک وسیع سلسلہ شروع کر رکھا ہے، جس کے نتیجے میں 15 لاکھ سے زائد افغان شہریوں کو واپس افغانستان روانہ کیا جا چکا ہے۔







Discussion about this post