مستند ہینلے پاسپورٹ انڈیکس نے ایک بار پھر دنیا کو حیران کر دیا ہے، جہاں افغان پاسپورٹ کو 101ویں نمبر پر دنیا کا سب سے کمزور پاسپورٹ قرار دے دیا گیا ہے۔ یہ درجہ بندی فروری 2026 کی تازہ ترین رپورٹ میں سامنے آئی ہے، جو عالمی سفر کی آزادی کو ماپنے کا سب سے معتبر پیمانہ سمجھی جاتی ہے۔ افغان شہریوں کے پاسپورٹ ہولڈرز اب صرف 24 ممالک اور علاقوں میں بغیر پیشگی ویزہ کے داخل ہو سکتے ہیں . یہ تعداد دنیا کی دیگر اقوام کے مقابلے میں انتہائی کم ہے، جو عالمی تنہائی کی ایک تلخ حقیقت کو عیاں کرتی ہے۔ عرب میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، یہ کمزور درجہ بندی گہرے سفارتی تعلقات کی کمی، داخلی بدانتظامی، اور سیکیورٹی کے سنگین خطرات سے جڑی ہوئی ہے، جو افغان عوام کی عالمی نقل و حرکت کو شدید متاثر کر رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان کی انتہا پسندانہ پالیسیاں نہ صرف افغان شہریوں کی ذاتی سلامتی کو خطرے میں ڈال رہی ہیں بلکہ پورے خطے کے استحکام کے لیے بھی سنگین چیلنجز پیدا کر رہی ہیں۔ اس کی وجہ سے ویزوں کی پابندیاں بڑھتی جا رہی ہیں، اور افغان پاسپورٹ ہولڈرز کی دنیا بھر میں آمد و رفت تقریباً ناممکن ہو چکی ہے۔

یہ صرف ایک اعداد و شمار کی خبر نہیں، بلکہ ایک قوم کی عالمی سطح پر تنہائی اور جدوجہد کی دردناک داستان ہے۔ ہینلے انڈیکس کی یہ رینکنگ واضح پیغام دیتی ہے کہ جب سفارت کاری کمزور ہو، استحکام متزلزل ہو، اور اعتماد کی کمی ہو تو پاسپورٹ کی طاقت بھی ختم ہو جاتی ہے۔ افغان عوام کے لیے یہ لمحہ سوچنے کا ہے کہ امن، استحکام اور بہتر سفارتی تعلقات ہی حقیقی سفر کی آزادی کی کنجی ہیں۔







Discussion about this post