متحدہ عرب امارات نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ معاشی طوفان کے پیش نظر امریکا سے مالی مدد طلب کر لی ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق اماراتی حکام نے واشنگٹن سے رابطہ کر کے ڈالر کی مستقل فراہمی یقینی بنانے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ اگر ایران کے ساتھ تنازعہ شدت اختیار کر گیا تو متحدہ عرب امارات کو بھاری مالی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس خدشے نے اماراتی قیادت کو پیشگی اقدامات پر مجبور کر دیا ہے۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ متحدہ عرب امارات کے مرکزی بینک کے گورنر خالد محمد نے امریکی حکام کے ساتھ اہم ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں کرنسی سواپ لائن کے ذریعے ڈالر تک فوری رسائی کے آپشن پر تفصیلی بات چیت ہوئی، جو کسی بھی ممکنہ مالی بحران میں امارات کی معیشت کو سہارا دے سکتی ہے۔

اماراتی وفد نے امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ سے بھی واشنگٹن میں براہ راست مذاکرات کیے۔ دونوں فریقوں نے مالی تعاون کے وسیع پہلوؤں پر غور کیا تاکہ خطے کے کسی بھی ہنگامی حالات میں معیشت مستحکم رہے۔ اگرچہ متحدہ عرب امارات اب تک بڑے معاشی جھٹکوں سے نسبتاً محفوظ رہا ہے، مگر حکام مستقبل کے خطرات کو نظر انداز نہیں کر رہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ معیشت کو ممکنہ دھچکوں سے پہلے ہی بچاؤ کی مضبوط دیوار کھڑی کر لی جائے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام خلیجی ممالک کی بڑھتی ہوئی بے چینی کی عکاسی کرتا ہے۔ جہاں ایک طرف سفارتکاری اور معاشی استحکام کی کوششیں جاری ہیں، وہاں دوسری طرف ممکنہ تصادم کے مالی اثرات سے بچنے کی تیاریاں بھی زور و شور سے ہو رہی ہیں۔ یہ رپورٹ محض ایک مالی درخواست نہیں، بلکہ خطے میں بڑھتے طوفان کا واضح اشارہ ہے جہاں ہر ملک اپنے تحفظ کی ڈھال خود ڈھال رہا ہے۔








Discussion about this post