امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی محاذ پر ایک بار پھر امید کی کرنیں پھوٹ پڑی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق، جنگ بندی ختم ہونے سے پہلے دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ ملاقات کا امکان روشن ہو گیا ہے۔ امریکی حکام اب بھی پُرامید ہیں کہ اس پیچیدہ تنازعے کا سفارتی حل ممکن ہے۔ سی این این کی رپورٹ کے مطابق، امریکی اور ایرانی حکام ممکنہ تاریخوں اور مقامات پر فعال غور و فکر کر رہے ہیں۔ ذاتی سطح پر ملاقات کی تیاریاں جاری ہیں اور ثالث اس نئے دور کو شروع کرنے کے لیے دن رات کوشاں ہیں۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مذاکرات کا دوسرا دور بھی اسلام آباد میں ہی ہو گا، جہاں دونوں فریقوں نے رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ نیویارک ٹائمز کا دعویٰ ہے کہ ایران یورینیم کی افزودگی پانچ سال کے لیے معطل کرنے کو تیار ہے، جبکہ امریکا اس مدت کو بیس سال تک بڑھانے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ یہ بنیادی اختلاف اب بھی مذاکرات کا سب سے بڑا چیلنج ہے۔

دوسری جانب اے بی سی نیوز سے گفتگو میں ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے تصدیق کی کہ ثالث مکمل سرگرم ہیں اور وہ مذاکرات کے نئے دور کو جلد از جلد شروع کرانے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔ دونوں ممالک اس وقت سفارتی حل کے خواہاں ہیں اور ثالث امریکی حملوں کے دوبارہ آغاز کو روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ اب آنکھیں اسلام آباد کی طرف ہیں، جہاں تاریخ رقم ہو سکتی ہے۔ ایک طرف سخت مطالبات، دوسری طرف امن کی امید ، مشرق وسطیٰ کی تقدیر کا فیصلہ ایک بار پھر بات چیت کی میز پر ہونے والا ہے۔







Discussion about this post