عید الفطر کی خوشبو ابھی ہواؤں میں گھلی ہی تھی کہ مری کے پہاڑوں نے اپنی آغوش کھول دی۔ ایک بار پھر لاکھوں دل اس خوبصورت مقام کی طرف لپکنے کو بے تاب ہیں۔ اس سال عید کی تعطیلات میں مری کو سیاحوں کی ایک نئی لہر کا سامنا ہے، جہاں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ڈاکٹر محمد رضا تنویر کے مطابق چار سے پانچ لاکھ سیاح اس جنت نظیر وادی کا رخ کریں گے۔ یہ کوئی معمولی تعداد نہیں، یہ ایک زندہ تہوار ہے جو پہاڑوں کی گود میں رونق لائے گا۔ گزشتہ سال کی عید کی یاد تازہ کرتے ہوئے پولیس نے بتایا کہ پہلے دن ا اٹھائیس ہزار سے زائد گاڑیاں مری میں داخل ہوئیں، اور اگلے تین دنوں میں یہ سلسلہ مزید شدت اختیار کر گیا۔ پچاس ہزار، ستاون ہزار، اور پھر پینتیس ہزار گاڑیوں کا سیلاب آیا۔ اس سال بھی عدالتی احکامات کے تحت روزانہ آٹھ ہزار گاڑیوں کی حد مقرر ہے، مگر رش کے عروج پر یہ تعداد بارہ ہزار تک پہنچ سکتی ہے۔ یعنی پہاڑی سڑکیں محض راستے نہیں، بلکہ ایک بہتی ہوئی زندگی کی مانند ہوں گی۔

پولیس نے اس سیلابِ سیاحوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے ایک نہایت اہم ہدایت جاری کی ہے: سفر سے پہلے Safe Tourism Murree ایپ ضرور ڈاؤن لوڈ کریں۔ یہ ایپ کوئی عام موبائل ایپلیکیشن نہیں۔ یہ آپ کا ذاتی محافظ ہے۔ اس میں ایک دباؤ سے پولیس، ریسکیو 1122، ٹریفک پولیس اور موٹروے پولیس تک فوری رسائی ممکن ہے۔ خواتین کے لیے تو یہ خاص طور پر نعمت ہے، ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن، ڈی پی او سے براہ راست واٹس ایپ رابطہ، ہوٹلوں اور سیاحتی مقامات کی تازہ ترین معلومات، اور سب سے اہم، موسم کی لائیو اپ ڈیٹس۔ یعنی آپ جہاں بھی ہوں، مری کا موسم آپ کی جیب میں ہوگا۔اور ہاں، موسم کی بات ہی الگ ہے۔ محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق عید کے ایام میں مری میں بارش اور آندھی کا امکان غالب ہے۔ اس لیے پولیس کی طرف سے واضح پیغام ہے: احتیاط سے ڈرائیو کریں، ٹریفک قوانین کی پابندی کریں، تیز رفتاری سے گریز کریں، اور پہاڑی موڑوں پر صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں۔ کیونکہ یہ سفر محض منزل تک پہنچنے کا نہیں۔ یہ خوبصورتی، سکون اور یادوں کا سفر ہے۔






Discussion about this post