شہرِ قائد کراچی پر رات کی تاریکی چھانے سے پہلے ہی ایک خوفناک طوفان نے اپنا رعب جما دیا۔ تیز آندھیوں نے آسمان کو غصے سے بھر دیا، گرج چمک کی گونج نے دلوں کو لرزا دیا، اور پھر موسلا دھار بارش نے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ یہ محض بارش نہیں تھی بلکہ اس نے چند لمحوں میں زندگیوں کو چھین لیا اور شہر کو سوگوار کر دیا۔ مختلف علاقوں میں دیواریں گر گئیں، چھتیں منہدم ہوئیں، درخت اکھڑ کر زمین پر آ گئے، اور آسمانی بجلی نے بے گناہوں کو نشانہ بنایا۔ بلدیہ مواچھ گوٹھ میں ایک عمارت کی تباہی نے گیارہ جانیں چھین لیں۔ وہ لوگ بارش سے پناہ لینے آئے تھے مگر موت نے انہیں گھیر لیا۔ قائد آباد میں ایک میاں بیوی دیوار تلے دب کر ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئے۔ گلستان جوہر میں چار سالہ معصوم بچی دیوار گرنے کی زد میں آئی اور اس کی ننھی سی زندگی ایک لمحے میں ختم ہو گئی۔ کورنگی میں درخت کے نیچے دب کر ایک شہری جان سے گزر گیا، جبکہ ملیر میں آسمانی بجلی نے تیس پینتیس سالہ شخص کو لقمہ اجل بنا دیا۔ یہ صرف اعدادوشمار نہیں، یہ درد کی کہانیاں ہیں۔ ایک خاندان کے سات افراد زخمی ہوئے جن میں سے ایک نے دم توڑ دیا، کلفٹن میں درخت گرنے سے ایک خاتون کی زندگی چھن گئی، اور کئی جگہوں پر زخمیوں کی چیخیں فضا میں گونجتی رہیں۔ ریسکیو ٹیمیں رات گئے تک امدادی کارروائیاں کرتی رہیں، لاشیں سول اسپتال پہنچائی گئیں، اور آپریشن جاری رہے تاکہ مزید جانیں بچائی جا سکیں۔
کراچی
گذشتہ رات کی تیز ہواوں کے ساتھ بارش نے شہر کے مختلف علاقوں میں درخت گرادیےپیپلز چورنگی کے قریب بھی تیز ہواوں کےسبب تین درخت گر گئے،
کئی گھنٹے گزرنے کے باجود اب تک شاہراہ کو کلئیرنہیں کیا جاسکا،
گرومندر سے پیپلز چورنگی جانے والے ٹریک پر ٹریفک متاثر ہونے کا خدشہ pic.twitter.com/xlucMfzrBI
— Shahid Hussain (@ShahidHussainJM) March 19, 2026
طوفان نے شہر کو اندھیرے میں ڈبو دیا—645 فیڈرز متاثر ہوئے، بجلی غائب ہو گئی، اور بیشتر علاقے رات بھر تاریکی کے آغوش میں رہے۔ شاہراہ فیصل پر ہوائیں نوے کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلیں، ماڑی پور میں ستانوے کلومیٹر تک پہنچیں، یہ اعداد نہیں، تباہی کی گواہی تھیں۔ بل بورڈز گرے، سڑکیں پانی سے بھر گئیں، اور عید کی خریداری کے لیے نکلے لوگ مشکلات میں گھر گئے۔ محکمہ موسمیات نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ یہ سسٹم شہر کی جانب بڑھ رہا ہے، اور اب یہ حقیقت بن چکا تھا۔ وزیر بلدیات نے ہائی الرٹ جاری کیا، عید کی چھٹیاں منسوخ کی گئیں، کمشنر کراچی نے افسران کو فیلڈ میں بھیج دیا، اور میئر کراچی کی ہدایت پر ایمرجنسی ٹیمیں تشکیل پا گئیں۔ کے الیکٹرک نے شہریوں سے برقی آلات سے دور رہنے کی اپیل کی، کیونکہ پانی اور بجلی کا امتزاج جان لیوا ثابت ہو سکتا تھا۔
کراچی
حسن اسکوائر پل کے نیچے ایکسپو سینٹر جانے والے روڈ پانی میں ڈوب گیا pic.twitter.com/Mtq0gM1NF4— Shahid Hussain (@ShahidHussainJM) March 18, 2026







Discussion about this post