راولپنڈی کی فضاؤں میں ایک اہم پیغام گونجا، جب پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے دوٹوک انداز میں واضح کیا کہ پاکستان اپنی سرزمین کے خلاف کسی بھی قسم کی دہشتگردی کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا، چاہے اس کے لیے بیرونی زمین ہی کیوں نہ استعمال کی جا رہی ہو۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق اس اہم ملاقات میں اہلِ تشیع مکتبِ فکر کے جید علما شریک ہوئے، جہاں نہ صرف قومی سلامتی کے حساس معاملات زیرِ بحث آئے بلکہ معاشرتی ہم آہنگی کے فروغ پر بھی سنجیدہ گفتگو ہوئی۔ ماحول ایسا تھا جہاں اتحاد، برداشت اور قومی یکجہتی کے جذبے کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا گیا۔
فیلڈ مارشل نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گمراہ کن معلومات اور فرقہ وارانہ بیانیہ وہ زہر ہیں جو معاشرے کو تقسیم کر سکتے ہیں، اور اس کے تدارک میں علما کا کردار نہایت اہم اور فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ مذہبی جذبات کو کسی صورت تشدد بھڑکانے کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے، اور کسی دوسرے ملک کے حالات کو بنیاد بنا کر پاکستان کے امن کو نقصان پہنچانا ناقابلِ قبول ہے۔ انہوں نے خطے کی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ پاکستان مسلسل سفارتی سطح پر کشیدگی کم کرنے کے لیے سرگرم ہے، تاہم یہ بھی واضح کیا کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنا افغان طالبان کی ذمہ داری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشتگرد جہاں بھی ہوں گے، ان کے ٹھکانے محفوظ نہیں رہیں گے اور ان کے خلاف کارروائی ناگزیر ہوگی۔ ملاقات کے دوران آپریشن “غضب للحق” کا بھی ذکر آیا، جبکہ عید کے احترام اور برادر ممالک سعودی عرب، ترکیہ اور قطر کی درخواست پر اس کارروائی کو عارضی طور پر چند روز کے لیے روکنے کا فیصلہ کیا گیا۔ علما نے اس موقع پر مذہب کے نام پر ہونے والے ہر قسم کے تشدد کی کھل کر مذمت کی اور ملک میں امن و استحکام کے لیے سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سلامتی اور اتحاد ہر چیز سے بڑھ کر ہے، اور اس کے لیے ہر ممکن کردار ادا کیا جائے گا۔ یہ ملاقات ایک واضح پیغام بن کر ابھری کہ پاکستان نہ صرف اپنے داخلی امن کے لیے پرعزم ہے بلکہ بیرونی خطرات کے مقابلے میں بھی پوری قوت کے ساتھ کھڑا ہے، اور قومی یکجہتی ہی اس کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔







Discussion about this post