ایران کے خلاف جاری اس شعلوں بھری جنگ میں جب اتحادی ممالک نے مدد کی دستک کو ٹھکرا دیا، تو ٹرمپ کا غصہ آسمان کو چھو گیا، مگر انہوں نے فوراً ہی ایک نئی شان کا اعلان کر دیا: امریکا کو کسی کی ضرورت نہیں، نہ مدد کی، نہ ساتھ کی۔ وائٹ ہاؤس کے صحافیوں کے سامنے کھڑے ہو کر ٹرمپ نے طاقتور آواز میں کہا کہ ایک عظیم ملک ہونے کے ناطے امریکا اپنے فیصلے خود کرتا ہے، اپنی راہ خود چنتا ہے اور اپنی لڑائی خود لڑتا ہے۔ کسی بیرونی ہاتھ کی ضرورت نہیں، کیونکہ ہماری طاقت خود کفیل ہے، خود مختار ہے اور ناقابلِ شکست۔ انہوں نے نیٹو پر تنقید کی تیز تلوار چلائی اور کہا کہ یہ اتحاد اب ایک بڑی غلطی کر رہا ہے۔ جب امریکا کو مشکل گھڑی میں ساتھ کی ضرورت تھی، تب یہ اتحادی پیچھے ہٹ گئے۔ وہ ہمارے ساتھ کھڑے ہونے کی بجائے خاموش تماشائی بنے رہے، جو تاریخ انہیں معاف نہیں کرے گی۔فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون کے آبنائے ہرمز میں فوجی کارروائی سے انکار پر ٹرمپ کا ردعمل انتہائی سخت تھا۔ انہوں نے کہا کہ میکرون جلد ہی اپنا عہدہ چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں گے، کیونکہ ایسے لمحات میں کمزوری دکھانے والوں کا انجام یہی ہوتا ہے۔

ٹرمپ نے جاپان، آسٹریلیا اور جنوبی کوریا کا نام لے کر افسوس کا اظہار کیا۔ یہ ممالک امریکہ کے موقف سے تو متفق تھے، مگر جب عملی امداد کا وقت آیا تو انہوں نے پیچھے ہٹ کر خاموشی اختیار کر لی۔ مشکل وقت میں ساتھ نہ دینے والے دوست، دوست کہلانے کے لائق نہیں۔ یاد رہے کہ برطانیہ، فرانس، آسٹریلیا، جاپان، جنوبی کوریا اور چین سمیت کئی اہم ممالک پہلے ہی آبنائے ہرمز سے متعلق کسی ممکنہ فوجی مہم میں شرکت سے صاف انکار کر چکے ہیں۔ یہ انکار محض الفاظ نہیں، بلکہ ایک بڑے اتحاد کی کمزوری کا اعتراف ہے۔







Discussion about this post