ایران کی پاسداران انقلاب کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے ایک دھماکہ خیز بیان میں دنیا کو یاد دلایا کہ جنگوں کا فیصلہ سوشل میڈیا کی چیخوں اور ٹویٹس سے نہیں، بلکہ میدان جنگ کی خاموشی اور دھماکوں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے امریکی آپریشن کے نام "ایپک فیوری” پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ اسے "ایپک فیئر” کہنا زیادہ مناسب ہوگا، جیسے کہ دشمن کی بڑی باتیں حقیقت میں خوف اور بے بسی کا پردہ پوشی کر رہی ہوں۔ دوسری جانب تہران کی گلیوں میں اب بھی اسرائیل کے نئے بڑے حملے کی گونج سنائی دے رہی ہے، جب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ایک پرجوش اور پرعزم لہجے میں خطاب کیا کہ علاقائی سلامتی کو باہر کی طاقتوں سے مسلط نہیں کیا جا سکتا، یہ پائیدار امن صرف خطے کے ممالک کی مشترکہ مرضی اور طاقت سے ہی قائم ہو سکتا ہے۔

انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ خطے کے اسلامی ممالک اب مل کر ایک نیا معاشی اور سیکیورٹی کا نظام تشکیل دیں گے، جہاں امریکی افواج کی موجودگی نہ صرف غیر ضروری بلکہ خطرناک ہے، اور انہیں خطے سے نکل جانا چاہیے۔قالیباف نے دشمن کے منصوبوں کو ناکام قرار دیتے ہوئے فخر سے کہا کہ جو منصوبہ ایران نے خود بنایا تھا، اسی پر عمل ہوا، اور دشمن اپنا ایجنڈا تھوپنے میں مکمل طور پر ناکام رہا۔






Discussion about this post