ایران نے فٹ بال کی دنیا میں ایک بڑا دھماکہ خیز اقدام اٹھاتے ہوئے فیفا سے رابطہ کر لیا ہے کہ 2026 ورلڈ کپ کے اپنے گروپ میچز امریکا سے ہٹا کر میکسیکو میں منتقل کیے جائیں، جہاں سیاسی کشیدگی اور سلامتی کے خدشات نے اس فیصلے کو ناگزیر بنا دیا ہے۔ الجزیرہ اور دیگر ذرائع کے مطابق ایرانی فٹ بال فیڈریشن کے صدر مہدی تاج نے واضح طور پر کہا ہے کہ فیفا کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، اور میکسیکو کو متبادل میزبان کے طور پر تجویز کیا گیا ہے تاکہ ایرانی کھلاڑیوں کی جان و مال کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔ ایران کے تین گروپ میچز لاس اینجلس اور سیئٹل میں شیڈول ہیں، جہاں امریکا، کینیڈا اور میکسیکو مشترکہ میزبان ہیں، اور ٹورنامنٹ 11 جون سے شروع ہوگا، مگر ایران کے وزیر کھیل نے پہلے ہی بائیکاٹ کا اعلان کر کے صورتحال کو مزید گرم کر دیا تھا۔

یہ مطالبہ محض ایک تجویز نہیں، بلکہ ایک سیاسی بیان ہے جو مشرق وسطیٰ کی جاری جنگ، امریکی حملوں اور صدر ٹرمپ کے بیانات کے تناظر میں اٹھایا گیا ہے، جہاں ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکا میں کھیلنا اب نہ صرف خطرناک ہے بلکہ نامناسب بھی۔ مہدی تاج کے الفاظ میں یہ مذاکرات ایک آخری کوشش ہیں کہ ورلڈ کپ کی خوبصورتی کو سیاسی تلخی سے بچایا جائے، اور ایرانی ٹیم کو ایک محفوظ اور غیر جانبدار میدان میں کھیلنے کا موقع ملے۔ فیفا کی جانب سے ابھی تک کوئی حتمی جواب سامنے نہیں آیا، مگر یہ خبر فٹ بال کی تاریخ میں ایک نئی لہر کا آغاز ثابت ہو رہی ہے، جہاں میدان جنگ سے باہر بھی سفارتی اور کھیل کی سیاست ایک دوسرے سے ٹکرا رہی ہے، اور دنیا کی نگاہیں اس پر ٹکی ہوئی ہیں کہ کیا ورلڈ کپ کا خواب امن کی بجائے تنازع کی زد میں آ جائے گا۔







Discussion about this post