ایران کے شمال مشرقی علاقوں میں ایک بار پھر خفیہ کارروائیوں کی گونج بلند ہوئی ہے، جہاں پاسداران انقلاب کے انٹیلی جنس ادارے نے جاسوسی کے سنگین الزام میں 10 غیر ملکی افراد کو گرفتار کر لیا، جو حساس تنصیبات کی معلومات اکٹھی کرنے اور ممکنہ فیلڈ آپریشنز کی تیاری میں ملوث تھے۔ یہ گرفتاریاں اس وقت سامنے آئی ہیں جب ایران میں دشمن قوتوں کے خلاف جاسوسی کے خلاف ایک سخت مہم جاری ہے، اور ایرانی میڈیا کے مطابق یہ افراد خفیہ طور پر ملک کے اہم ترین فوجی اور اقتصادی مراکز کی جاسوسی کر رہے تھے، جن کی قومیتوں کا انکشاف ابھی تک نہیں کیا گیا تاکہ تحقیقات پر کوئی اثر نہ پڑے۔ اسی پس منظر میں ایران نے اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں ایک ملزم کو پھانسی دے دی، جو اس طرح کے الزامات پر سخت ترین سزا کا ایک اور باب ہے، جہاں ملک کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والوں کے خلاف کوئی رعایت نہیں کی جاتی۔ شمال مشرقی ایران کی یہ سرزمین، جو نسبتاً کم تنازعات کا شکار رہی ہے، اب خفیہ جنگ کے میدان میں تبدیل ہو گئی ہے، جہاں گرفتار افراد پر الزام ہے کہ وہ دشمن کی آنکھیں اور کان بن کر حساس معلومات منتقل کر رہے تھے، جو ممکنہ حملوں کی بنیاد بن سکتی تھیں۔ پاسداران انقلاب کی یہ کارروائی ایک واضح پیغام ہے کہ ایران اپنی سرحدوں اور تنصیبات کی حفاظت میں ذرہ برابر بھی غفلت برداشت نہیں کرے گا، اور جو بھی اس کی سلامتی کو چیلنج کرے گا، اسے سخت ترین انجام کا سامنا کرنا پڑے گا۔







Discussion about this post