بغداد کی رات کو آسمان میں موت کی آوازیں گونج اٹھیں جب ڈرونز اور راکٹوں کی ایک طوفانی لہر نے امریکی سفارتخانے کو نشانہ بنایا، جو حالیہ مہینوں کا سب سے شدید اور بے رحم حملہ تھا۔ایرانی حمایت یافتہ عسکریت پسند گروہوں کی جانب سے چلائی گئی یہ کارروائی اتنی زبردست تھی کہ شہر کی خاموشی کو چیخیں اور دھماکوں نے چیر دیا، جہاں کم از کم پانچ ڈرونز اور راکٹوں کی بوچھاڑ نے سفارتخانے کے قلعہ نما احاطے کو لرزا دیا۔ حملے سے چند گھنٹے قبل ہی امریکی سفارتخانے نے اپنے شہریوں کو خبردار کر دیا تھا کہ ایران سے جڑے مسلح گروہ بار بار انٹرنیشنل زون پر حملہ آور ہو رہے ہیں، اور یہ انتباہ حقیقت میں بدل گیا جب آسمان سے آگ اور دھوئیں کے بادل اٹھنے لگے۔ ایک عینی شاہد نے بتایا کہ ڈرونز قطار میں پرواز کرتے ہوئے سفارتخانے کی طرف بڑھے، جہاں دفاعی نظام نے آسمان کو چیرتے ہوئے انہیں روکنے کی کوشش کی، مگر کم از کم ایک ڈرون احاطے کے اندر جا گرا اور آگ کی لپٹیں بلند ہو گئیں۔ عراقی سیکیورٹی فورسز نے فوراً علاقے کو گھیرے میں لے لیا، ہر طرف تناؤ کی لہر دوڑ گئی، جبکہ دھماکوں کی گونج اب بھی بغداد کی گلیوں میں گونج رہی ہے۔ ابھی تک جانی و مالی نقصان کی مکمل تصویر سامنے نہیں آئی، مگر یہ حملہ خطے کی ابھرتی ہوئی آگ کو مزید بھڑکا دینے والا ایک خطرناک باب ثابت ہو رہا ہے، جہاں امن کی امید ایک بار پھر دھوئیں میں گم ہوتی نظر آ رہی ہے۔






Discussion about this post