بنگلا دیش کے خلاف ایک روزہ سیریز میں تاریخی شکست کے بعد سابق کپتان شاہد آفریدی نے پاکستان کرکٹ کی سلیکشن کمیٹی پر ایسا طوفانی حملہ کیا ہے کہ پورا کرکٹ حلقہ ہل گیا ہے.۔ آفریدی نے بے باکی سے کہا کہ ورلڈ کپ کے بعد اس ناکامی پر سلیکشن کمیٹی کو شرمندگی اور افسوس کا سامنا کرنا چاہیے، کیونکہ انہیں یہ بھی پتہ نہیں کہ کون سا کھلاڑی کس فارمیٹ کے لیے کپتان کے لائق ہے۔ان کا سخت ترین تبصرہ یہ تھا کہ ٹیم میں "سرجری” کے نام پر ایسے سینئر کھلاڑیوں کو باہر بٹھا دیا گیا جن کی کارکردگی مسلسل شاندار تھی، جبکہ سلیکشن کمیٹی خود اس "آپریشن” کی ضرورت مند ہے، ٹیم کی نہیں، بلکہ کمیٹی کی سرجری ہونی چاہیے۔ بنگلا دیش نے تیسرے ون ڈے میں پاکستان کو شکست دے کر سیریز 2-1 سے اپنے نام کر لی، جو پاکستان کرکٹ کے لیے ایک نیا دھچکا ثابت ہوا ہے۔ آفریدی نے اس شکست کو صرف ایک میچ کی ناکامی نہیں بلکہ سلیکشن پالیسی کی بنیادی خامی قرار دیا۔ یہ بیان نہ صرف شاہد آفریدی کے بے خوف انداز کی عکاسی کرتا ہے بلکہ پاکستان کرکٹ کے موجودہ بحران کو بھی بے نقاب کر رہا ہےجہاں تجربہ کار کھلاڑیوں کو نظر انداز کر کے نئے چہروں پر شرط لگانے کی حکمت عملی ناکام ہو رہی ہے۔
— Shahid Afridi (@SAfridiOfficial) March 15, 2026







Discussion about this post